صحیح بخاری حدیث ۴۱۵۵ - اصحاب شجرہ کی تعداد
اصحاب شجرہ کی تعداد: تیرہ سو صحابہ کی روایت
صحیح بخاری : ۴۱۵۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۵۵
وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ , حَدَّثَنَا أَبِي , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ , حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : كَانَ أَصْحَابُ الشَّجَرَةِ أَلْفًا وَثَلَاثَ مِائَةٍ , وَكَانَتْ أَسْلَمُ ثُمْنَ الْمُهَاجِرِينَ . تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ .
عبداللہ بن ابی اوفی روایت:
درخت والوں (بیعت رضوان کرنے والوں) کی تعداد تیرہ سو تھی۔ قبیلہ اسلم مہاجرین کا آٹھواں حصہ تھے۔اس روایت کی متابعت محمد بن بشار نے کی ‘ ان سے ابوداؤد طیالسی نے بیان کیا اور ان سے شعبہ نے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۱۵۵ کا خلاصہ
یہ حدیث اصحاب شجرہ، یعنی بیعت رضوان میں شریک ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں ہے۔ عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ درخت والوں کی تعداد تیرہ سو تھی۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ قبیلہ اسلم مہاجرین کا آٹھواں حصہ تھے۔ یہ روایت بھی حدیبیہ اور بیعت رضوان کی تاریخ سے تعلق رکھتی ہے۔ اس میں کوئی الگ فقہی حکم نہیں، بلکہ ایک عددی اور تاریخی خبر ہے۔ چونکہ اسی واقعے کی دوسری روایات میں چودہ سو یا پندرہ سو کا ذکر بھی آیا ہے، اس لیے اسے روایت کے اپنے الفاظ کے طور پر نقل کرنا چاہیے۔ اصل بات یہ ہے کہ بیعت رضوان صحابہ کی بڑی جماعت کا ایمان افروز واقعہ تھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اصحاب شجرہ سے مراد بیعت رضوان میں شریک صحابہ ہیں۔
- اس روایت میں ان کی تعداد تیرہ سو بیان ہوئی ہے۔
- قبیلہ اسلم کا ذکر مہاجرین کے تناسب کے ساتھ آیا ہے۔
- تاریخی اعداد میں روایت کے الفاظ کی پابندی ضروری ہے۔
