صحیح بخاری حدیث ۴۱۶۲ - بیعت رضوان کے درخت کا مقام
بیعت رضوان کا درخت: مقام یاد نہ رہنے کی روایت
صحیح بخاری : ۴۱۶۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۶۲
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ , حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ أَبُو عَمْرٍو الْفَزَارِيّ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : " لَقَدْ رَأَيْتُ الشَّجَرَةَ ثُمَّ أَتَيْتُهَا بَعْدُ فَلَمْ أَعْرِفْهَا .
مسیب بن حزن روایت:
میں نے وہ درخت دیکھا تھا لیکن پھر بعد میں جب آیا تو میں اسے نہیں پہچان سکا۔ محمود نے بیان کیا کہ پھر بعد میں وہ درخت مجھے یاد نہیں رہا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۱۶۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں مسیب بن حزن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے وہ درخت دیکھا تھا، یعنی بیعت رضوان کا درخت۔ پھر بعد میں جب وہ اس کے پاس آئے تو اسے پہچان نہ سکے۔ دوسری بات یہ نقل ہوئی کہ بعد میں وہ درخت انہیں یاد نہیں رہا تھا۔ اس روایت کا موضوع بیعت رضوان کے درخت کا مقام ہے۔ حدیث ہمیں یہ نہیں کہتی کہ اس درخت کو تلاش کیا جائے یا اس سے کوئی خاص عمل جوڑا جائے۔ بس اتنا بتایا گیا ہے کہ صحابی نے اسے دیکھا تھا، مگر بعد میں پہچان نہ سکے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل اہمیت بیعت، ایمان اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وفاداری کی تھی، نہ کہ درخت کے مقام کو محفوظ رکھنے کی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیعت رضوان کا درخت صحابہ کے واقعے سے جڑا تھا۔
- مسیب رضی اللہ عنہ بعد میں اسے پہچان نہ سکے۔
- حدیث میں درخت کے ساتھ کوئی خاص عبادت بیان نہیں ہوئی۔
- اصل سبق بیعت رضوان کی وفاداری اور ایمان کا ہے۔
