صحیح بخاری حدیث ۴۱۶۱ - ضرورت مندوں کی کفالت

ضرورت مندوں کی کفالت: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی سخاوت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۶۱

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : " خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى السُّوقِ , فَلَحِقَتْ عُمَرَ امْرَأَةٌ شَابَّةٌ , فَقَالَتْ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَلَكَ زَوْجِي وَتَرَكَ صِبْيَةً صِغَارًا وَاللَّهِ مَا يُنْضِجُونَ كُرَاعًا , وَلَا لَهُمْ زَرْعٌ وَلَا ضَرْعٌ وَخَشِيتُ أَنْ تَأْكُلَهُمُ الضَّبُعُ وَأَنَا بِنْتُ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءَ الْغِفَارِيِّ وَقَدْ شَهِدَ أَبِي الْحُدَيْبِيَةَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَوَقَفَ مَعَهَا عُمَرُ وَلَمْ يَمْضِ ثُمَّ قَالَ : مَرْحَبًا بِنَسَبٍ قَرِيبٍ , ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى بَعِيرٍ ظَهِيرٍ كَانَ مَرْبُوطًا فِي الدَّارِ , فَحَمَلَ عَلَيْهِ غِرَارَتَيْنِ مَلَأَهُمَا طَعَامًا , وَحَمَلَ بَيْنَهُمَا نَفَقَةً وَثِيَابًا , ثُمَّ نَاوَلَهَا بِخِطَامِهِ , ثُمَّ قَالَ : اقْتَادِيهِ فَلَنْ يَفْنَى حَتَّى يَأْتِيَكُمُ اللَّهُ بِخَيْرٍ , فَقَالَ رَجُلٌ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَكْثَرْتَ لَهَا , قَالَ عُمَرُ : ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ , وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى أَبَا هَذِهِ وَأَخَاهَا قَدْ حَاصَرَا حِصْنًا زَمَانًا , فَافْتَتَحَاهُ ثُمَّ أَصْبَحْنَا نَسْتَفِيءُ سُهْمَانَهُمَا فِيهِ " .

´ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا ‘ ان سے زید بن اسلم نے ‘ ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ` میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ بازار گیا۔ عمر رضی اللہ عنہ سے ایک نوجوان عورت نے ملاقات کی اور عرض کیا کہ امیرالمؤمنین! میرے شوہر کی وفات ہو گئی ہے اور چند چھوٹی چھوٹی بچیاں چھوڑ گئے ہیں۔ اللہ کی قسم کہ اب نہ ان کے پاس بکری کے پائے ہیں کہ ان کو پکا لیں، نہ کھیتی ہے ‘ نہ دودھ کے جانور ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ فقر و فاقہ سے ہلاک نہ ہو جائیں۔ میں خفاف بن ایماء غفاری رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہوں۔ میرے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حدیبیہ میں شریک تھے۔ یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس تھوڑی دیر کے لیے کھڑے ہو گئے ‘ آگے نہیں بڑھے۔ پھر فرمایا ‘ مرحبا ‘ تمہارا خاندانی تعلق تو بہت قریبی ہے۔ پھر آپ ایک بہت قوی اونٹ کی طرف مڑے جو گھر میں بندھا ہوا تھا اور اس پر دو بورے غلے سے بھرے ہوئے رکھ دیئے۔ ان دونوں بوروں کے درمیان روپیہ اور دوسری ضرورت کی چیزیں اور کپڑے رکھ دیئے اور اس کی نکیل ان کے ہاتھ میں تھما کر فرمایا کہ اسے لے جا ‘ یہ ختم نہ ہو گا اس سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ تجھے اس سے بہتر دے گا۔ ایک صاحب نے اس پر کہا ‘ اے امیرالمؤمنین! آپ نے اسے بہت دے دیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ‘ تیری ماں تجھے روئے ‘ اللہ کی قسم! اس عورت کے والد اور اس کے بھائی جیسے اب بھی میری نظروں کے سامنے ہیں کہ ایک مدت تک ایک قلعہ کے محاصرے میں وہ شریک رہے ‘ آخر اسے فتح کر لیا۔ پھر ہم صبح کو ان دونوں کا حصہ مال غنیمت سے وصول کر رہے تھے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۱۶۱ کا خلاصہ

یہ حدیث اسی واقعے کو بیان کرتی ہے جس میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بازار جا رہے تھے۔ ایک نوجوان عورت نے اپنی مجبوری بیان کی کہ شوہر فوت ہو گیا، چھوٹی بچیاں ہیں، کھانے پینے کے ذرائع نہیں، اور اسے فقر کا ڈر ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ خفاف بن ایماء غفاری رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہے، جو حدیبیہ میں شریک تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی بات کو نظرانداز نہیں کیا، بلکہ رکے اور پھر ایک اونٹ پر غلہ، خرچ، کپڑے اور ضرورت کی چیزیں لاد کر اسے دے دیں۔ حدیث میں یہ بھی ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اس خاندان کی سابقہ دینی خدمت کو یاد رکھا۔ اس روایت کا پیغام ہے کہ ذمہ دار آدمی ضرورت مند کی مدد کو معمولی نہ سمجھے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • محتاج کی فریاد سننا اور رک کر مدد کرنا اہم ہے۔
  • بچوں اور بیوہ کی کفالت کو عملی انداز میں پورا کیا گیا۔
  • خاندان کی سابقہ دینی خدمت کو عزت دی گئی۔
  • مدد پر اعتراض ہو تو حق دار کی ضرورت اور پس منظر دیکھا جا سکتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں