صحیح بخاری حدیث ۴۱۶۳ - بیعت رضوان کا درخت اور احتیاط
بیعت رضوان کا درخت: ثابت علم کے بغیر جگہ کو خاص نہ بنائیں
صحیح بخاری : ۴۱۶۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۶۳
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ , عَنْ إِسْرَائِيلَ , عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالَ : انْطَلَقْتُ حَاجًّا فَمَرَرْتُ بِقَوْمٍ يُصَلُّونَ قُلْتُ : مَا هَذَا الْمَسْجِدُ ؟ قَالُوا : هَذِهِ الشَّجَرَةُ حَيْثُ بَايَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ , فَأَتَيْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ , فَأَخْبَرْتُهُ , فَقَالَ سَعِيدٌ : حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ كَانَ فِيمَنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ , قَالَ : فَلَمَّا خَرَجْنَا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ نَسِينَاهَا فَلَمْ نَقْدِرْ عَلَيْهَا , فَقَالَ سَعِيدٌ : " إِنَّ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَعْلَمُوهَا وَعَلِمْتُمُوهَا أَنْتُمْ , فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ " .
طارق بن عبدالرحمٰن روایت:
حج کے ارادے سے جاتے ہوئے میں کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا جو نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون سی مسجد ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ وہی درخت ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت رضوان لی تھی۔پھر میں سعید بن مسیب کے پاس آیا اور میں نے انہیں اس کی خبر دی ‘ انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد مسیب بن حزن نے بیان کیا ‘ وہ ان لوگوں میں تھے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس درخت کے تلے بیعت کی تھی۔ کہتے تھے جب میں دوسرے سال وہاں گیا تو اس درخت کی جگہ کو بھول گیا۔ سعید نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب تو اس درخت کو پہچان نہ سکے۔ تم لوگوں نے کیسے پہچان لیا (اس کے تلے مسجد بنا لی) تم ان سے زیادہ علم والے ٹھہرے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۱۶۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع بیعت رضوان کا درخت ہے۔ روایت میں طارق بن عبدالرحمٰن نے کچھ لوگوں کو ایک جگہ نماز پڑھتے دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ یہی وہ درخت ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت رضوان لی تھی۔ جب یہ بات سعید بن مسیب تک پہنچی تو انہوں نے اپنے والد کا واقعہ بیان کیا کہ وہ خود اس بیعت میں شریک تھے، مگر اگلے سال وہ اس درخت کی جگہ پہچان نہ سکے۔ پھر سعید نے تنبیہ کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اس درخت کو نہ پہچان سکے تو بعد کے لوگ اسے کیسے یقینی طور پر پہچان گئے۔ اس سے عام فہم سبق ملتا ہے کہ بیعت رضوان کی حدیث پڑھتے ہوئے جذبات کے ساتھ احتیاط بھی ضروری ہے۔ دین میں کسی جگہ کو خاص عبادت گاہ سمجھنے کے لیے مضبوط دلیل چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینی بات میں اندازے کو یقینی علم بنا کر پیش نہیں کرنا چاہیے۔
- صحابہ کے علم اور احتیاط کو بعد کے لوگوں کے دعووں پر ترجیح دینی چاہیے۔
- کسی جگہ کو خاص عبادت کے لیے مقرر کرنے میں ثابت دلیل کی ضرورت ہے۔
- بیعت رضوان کی عظمت اپنی جگہ ہے، مگر درخت کی جگہ کو یقینی کہنا روایت کے خلاف ہے۔
