صحیح بخاری حدیث ۴۱۶۵ - شجرہ والی بیعت کا ذکر

شجرہ والی بیعت: بیعت رضوان کی خبر معتبر راوی سے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۶۵

حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ طَارِقٍ , قَالَ : ذُكِرَتْ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ الشَّجَرَةُ , فَضَحِكَ فَقَالَ : أَخْبَرَنِي أَبِي , وَكَانَ شَهِدَهَا .

طارق بن عبدالرحمٰن روایت:

سعید بن مسیب کی مجلس میں «الشجرة» کا ذکر ہوا تو وہ ہنسے اور کہا کہ میرے والد نے مجھے بتایا کہ وہ بھی اس درخت کے تلے بیعت میں شریک تھے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۱۶۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں مجلس میں شجرہ یعنی بیعت رضوان کے درخت کا ذکر ہوا تو سعید بن مسیب مسکرائے اور کہا کہ میرے والد نے مجھے بتایا کہ وہ اس بیعت میں شریک تھے۔ اس مختصر روایت میں لمبی تفصیل نہیں، مگر ایک اہم بات موجود ہے: بیعت رضوان کا معاملہ سننے سنانے والی عام بات نہیں بلکہ ایسے صحابہ کی گواہی سے معلوم ہوتا ہے جو خود وہاں موجود تھے۔ بیعت رضوان کی حدیث، اصحاب شجرہ، اور درخت کے نیچے بیعت جیسے موضوعات میں اصل وزن معتبر نقل کا ہے۔ اس متن سے ہمیں یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ سعید بن مسیب نے اپنے والد کی خبر کو بنیاد بنایا، نہ کہ بعد کے لوگوں کے اندازوں کو۔ اس لیے دینی واقعات بیان کرتے وقت سند، روایت اور احتیاط کی قدر کرنی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دینی واقعات میں معتبر راوی کی خبر کو بنیاد بنانا چاہیے۔
  • بیعت رضوان کی فضیلت ثابت ہے، مگر بات روایت کے دائرے میں رہ کر کرنی چاہیے۔
  • صحابہ کے واقعات سناتے وقت غیر ثابت تفصیل شامل نہیں کرنی چاہیے۔
  • مختصر حدیث بھی علم اور احتیاط کا واضح سبق دے سکتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں