صحیح بخاری حدیث ۴۱۶۶ - صدقہ دینے والوں کے لیے دعا
صدقہ دینے والوں کے لیے دعا: آل ابی اوفی کی حدیث
صحیح بخاری : ۴۱۶۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۶۶
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ , قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى , وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ قَوْمٌ بِصَدَقَةٍ , قَالَ : " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ " , فَأَتَاهُ أَبِي بِصَدَقَتِهِ , فَقَالَ : " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى " .
عمرو بن مرہ روایت:
میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیعت رضوان میں شریک تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب کوئی صدقہ لے کر حاضر ہوتا تو آپ دعا کرتے کہ اے اللہ! اس پر اپنی رحمت نازل فرما۔ چنانچہ میرے والد بھی اپنا صدقہ لے کر حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ! آل ابی اوفی رضی اللہ عنہ پر اپنی رحمت نازل فرما۔
صحیح بخاری حدیث ۴۱۶۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع صدقہ اور دعا ہے۔ عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب کوئی قوم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقہ لے کر آتی تو آپ ان کے لیے دعا فرماتے: اے اللہ! ان پر رحمت نازل فرما۔ پھر جب ان کے والد اپنا صدقہ لے کر آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر دعا کی: اے اللہ! آل ابی اوفی پر رحمت نازل فرما۔ صدقہ کی حدیث میں یہاں ایک نرم اور خوبصورت پہلو سامنے آتا ہے کہ نیک کام کرنے والے کے لیے دعا کی جائے۔ متن میں صدقہ دینے والے کی تعریف لمبی نہیں، بلکہ دعا کا عمل ہے۔ اس لیے صدقہ، زکوٰۃ، اور خیر کے کاموں میں لوگوں کے لیے خیر کی دعا کرنا ایک اچھا نبوی انداز ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صدقہ لانے والے کے لیے دعا کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔
- نیک کام پر لوگوں کی حوصلہ افزائی نرم دعا کے ذریعے بھی کی جا سکتی ہے۔
- صدقہ صرف مال دینے کا نام نہیں، اس کے ساتھ اخلاص اور دعا کا تعلق بھی نظر آتا ہے۔
- کسی خاندان کے لیے خیر کی دعا کرنا روایت کے متن سے ثابت ہے۔
