صحیح بخاری حدیث ۴۱۶۴ - اصحاب شجرہ اور بھولا ہوا درخت
اصحاب شجرہ کی حدیث: بیعت رضوان کے درخت کی پہچان میں احتیاط
صحیح بخاری : ۴۱۶۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۶۴
حَدَّثَنَا مُوسَى , حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ , حَدَّثَنَا طَارِقٌ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ : " كَانَ مِمَّنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ , فَرَجَعْنَا إِلَيْهَا الْعَامَ الْمُقْبِلَ فَعَمِيَتْ عَلَيْنَا " .
´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعوانہ نے ‘ کہا ہم سے طارق بن عبدالرحمٰن نے ‘ ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ان کے والد نے کہ` انہوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس درخت کے تلے بیعت کی تھی۔ کہتے تھے کہ جب ہم دوسرے سال ادھر گئے تو ہمیں پتہ نہیں چلا کہ وہ کون سا درخت تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۱۶۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں سعید بن مسیب اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس درخت کے نیچے بیعت کرنے والوں میں شامل تھے۔ مگر جب اگلے سال وہ اسی طرف گئے تو درخت کی پہچان ان پر واضح نہ رہی۔ یہ بات بہت سادہ مگر بڑی معنی خیز ہے۔ جو لوگ خود بیعت رضوان میں موجود تھے، وہ بھی بعد میں اس درخت کو یقین کے ساتھ نہ پہچان سکے۔ اس لیے بیعت رضوان کا درخت، اصحاب شجرہ، اور شجرہ والی بیعت کے بارے میں بات کرتے وقت احتیاط ضروری ہے۔ حدیث ہمیں یہ نہیں کہتی کہ اس جگہ کو خاص عبادت گاہ بنایا جائے۔ بلکہ متن سے یہی بات سامنے آتی ہے کہ صحابہ نے اس درخت کی جگہ کو بعد میں محفوظ یا مقرر نہیں رکھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیعت رضوان میں شریک صحابی کا بیان بعد کے اندازوں سے زیادہ معتبر ہے۔
- جس بات کی پہچان واضح نہ رہے، اسے یقین بنا کر بیان نہیں کرنا چاہیے۔
- دینی عقیدت کو روایت کے الفاظ کے اندر رکھنا چاہیے۔
- صحابہ کرام کی سادگی اور احتیاط ہمارے لیے عملی مثال ہے۔
