صحیح بخاری حدیث ۴۱۶۹ - حدیبیہ میں موت پر بیعت

حدیبیہ کی بیعت: موت پر بیعت کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۶۹

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا حَاتِمٌ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ , قَالَ : قُلْتُ لِسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ : عَلَى أَيِّ شَيْءٍ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ ؟ قَالَ : " عَلَى الْمَوْتِ " .

یزید بن ابی عبید روایت:

میں نے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس چیز پر بیعت کی تھی؟ انہوں نے بتلایا کہ موت پر۔

صحیح بخاری حدیث ۴۱۶۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں یزید بن ابی عبید نے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس بات پر بیعت کی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: موت پر۔ یہ روایت بہت مختصر ہے مگر بیعت رضوان کی سنجیدگی کو واضح کرتی ہے۔ یہاں کوئی اضافی تفصیل نہیں، صرف سوال اور جواب ہے۔ اس لیے اس حدیث سے یہی بات لی جائے گی کہ حدیبیہ کے دن صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک نہایت مضبوط عہد کیا تھا۔ بیعت رضوان، موت پر بیعت، اور حدیبیہ کی حدیث تلاش کرنے والوں کے لیے یہ روایت اصل الفاظ میں جواب دیتی ہے۔ اس میں صحابہ کی وفاداری اور عہد کی مضبوطی کا بیان ہے، مگر متن سے باہر تفصیل شامل نہیں کی جا سکتی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حدیبیہ کے موقع پر صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مضبوط عہد کیا۔
  • بیعت رضوان کے بارے میں اصل بات صحابی کے واضح جواب سے معلوم ہوتی ہے۔
  • دینی واقعات کو مختصر مگر درست انداز میں بیان کرنا چاہیے۔
  • عہد کرتے وقت سنجیدگی اور وفاداری کا پہلو اس روایت میں نمایاں ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں