صحیح بخاری حدیث ۴۱۷۰ - صحابی کی عاجزی اور خوف
صحابی کی عاجزی: بیعت رضوان کے باوجود اپنے عمل کا خوف
صحیح بخاری : ۴۱۷۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۷۰
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِشْكَابٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ , عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : لَقِيتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , فَقُلْتُ : طُوبَى لَكَ صَحِبْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَايَعْتَهُ تَحْتَ الشَّجَرَةِ , فَقَالَ : يَا ابْنَ أَخِي إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثْنَا بَعْدَهُ " .
´مجھ سے احمد بن اشکاب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا ‘ ان سے علاء بن مسیب نے ‘ ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ` میں براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا ‘ مبارک ہو! آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت نصیب ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے شجر (درخت) کے نیچے بیعت کی۔ انہوں نے کہا بیٹے! تمہیں معلوم نہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کیا کیا کام کئے ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۴۱۷۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک شخص نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ کو مبارک ہو، آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت پائی اور درخت کے نیچے بیعت کی۔ براء رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: بیٹے! تم نہیں جانتے کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کیا کیا کام کیے۔ اس روایت کا اصل موضوع عاجزی اور اپنے عمل کے بارے میں خوف ہے۔ براء رضی اللہ عنہ اپنی بڑی سعادت کے باوجود خود کو بے فکر نہیں سمجھتے۔ بیعت رضوان، صحابہ کی فضیلت، اور عاجزی کی حدیث میں یہ متن ہمیں بتاتا ہے کہ نیک نسبت انسان کو غرور میں نہیں ڈالنی چاہیے۔ صحابی نے اپنی فضیلت کا انکار نہیں کیا، مگر اپنے بعد کے عمل کے بارے میں احتیاط اور خوف کا اظہار کیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بڑی دینی سعادت کے باوجود انسان کو اپنے عمل کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے۔
- صحابہ کرام اپنی فضیلت کے ساتھ عاجزی بھی رکھتے تھے۔
- کسی کے مقام کی تعریف کرتے وقت اس کی اپنی احتیاط کو بھی سمجھنا چاہیے۔
- نیک ماضی انسان کو بے فکر ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔
