صحیح بخاری حدیث ۴۱۷۲ - صلح حدیبیہ کھلی فتح

صلح حدیبیہ: إنا فتحنا لك فتحا مبينا کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۷۲

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا سورة الفتح آية 1 , قَالَ : الْحُدَيْبِيَةُ , قَالَ أَصْحَابُهُ : هَنِيئًا مَرِيئًا سورة النساء آية 4 فَمَا لَنَا , فَأَنْزَلَ اللَّهُ : لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأَنْهَارُ سورة الفتح آية 5 , قَالَ شُعْبَةُ : فَقَدِمْتُ الْكُوفَةَ فَحَدَّثْتُ بِهَذَا كُلِّهِ عَنْ قَتَادَةَ , ثُمَّ رَجَعْتُ فَذَكَرْتُ لَهُ , فَقَالَ : أَمَّا إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ سورة الفتح آية 1, فَعَنْ أَنَسٍ , وَأَمَّا هَنِيئًا مَرِيئًا سورة النساء آية 4 فَعَنْ عِكْرِمَةَ " .

انس بن مالک روایت:

آیت) «إنا فتحنا لك فتحا مبينا‏» ”بیشک ہم نے تمہیں کھلی ہوئی فتح دی۔“ یہ فتح صلح حدیبیہ تھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تو مرحلہ آسان ہے (کہ آپ کی تمام اگلی اور پچھلی لغزشیں معاف ہو چکی ہیں) لیکن ہمارا کیا ہو گا؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «ليدخل المؤمنين والمؤمنات جنات‏» ”اس لیے کہ مومن مرد اور مومن عورتیں جنت میں داخل کی جائیں گی جس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔“شعبہ نے بیان کیا کہ پھر میں کوفہ آیا اور میں قتادہ سے پورا واقعہ بیان کیا ‘ پھر میں دوبارہ قتادہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے سامنے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ «إنا فتحنا لك‏» ”بیشک ہم نے تمہیں کھلی فتح دی ہے۔“ کی تفسیر تو انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے لیکن اس کے بعد «هنيئا مريئا» (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تو ہر مرحلہ آسان ہے) یہ تفسیر عکرمہ سے منقول ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۱۷۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان ہے کہ قرآن کی آیت إنا فتحنا لك فتحا مبينا سے مراد حدیبیہ ہے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تو خوشی کی بات ہے، ہمارا کیا ہوگا؟ پھر اللہ تعالیٰ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کے جنت میں داخل کیے جانے والی آیت نازل فرمائی۔ روایت کے آخر میں شعبہ اور قتادہ کے درمیان نقل کی وضاحت بھی آتی ہے کہ آیت إنا فتحنا لك کی تفسیر انس رضی اللہ عنہ سے ہے، جبکہ ہنيئا مريئا کا حصہ عکرمہ سے منقول ہے۔ صلح حدیبیہ، سورہ فتح، اور فتح مبین کی حدیث میں یہ روایت بتاتی ہے کہ بظاہر صلح کا معاملہ بھی اللہ کے ہاں کھلی فتح تھا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • انس رضی اللہ عنہ کے بیان کے مطابق فتح مبین سے مراد حدیبیہ ہے۔
  • صحابہ اپنے انجام کے بارے میں فکر رکھتے تھے اور جواب قرآن سے آیا۔
  • روایت نقل کرتے وقت راویوں نے کس بات کی نسبت کس سے ہے، یہ فرق واضح کیا۔
  • صلح حدیبیہ کو متن کے مطابق فتح کہا گیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں