صحیح بخاری حدیث ۴۱۷۵ - ستو پینے کا سادہ واقعہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کا ستو پینا
صحیح بخاری : ۴۱۷۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۷۵
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ سُوَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ , وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ , " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ أُتُوا بِسَوِيقٍ فَلَاكُوهُ , تَابَعَهُ مُعَاذٌ , عَنْ شُعْبَةَ .
سوید بن نعمان روایت:
گویا اب بھی وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے ستو لایا گیا۔ جسے ان حضرات نے پیا۔ اس روایت کی متابعت معاذ نے شعبہ سے کی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۱۷۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ کا بیان ہے، جو بیعت رضوان میں شریک تھے۔ وہ فرماتے ہیں کہ گویا وہ منظر اب بھی ان کی آنکھوں کے سامنے ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے سامنے ستو لایا گیا اور انہوں نے اسے پیا۔ روایت بہت مختصر ہے، مگر اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کی سادہ زندگی کی جھلک ملتی ہے۔ ستو کی حدیث، نبی کی غذا، اور صحابہ کی سادگی جیسے موضوعات میں یہ متن کسی بڑی تفصیل کے بغیر ایک عام کھانے پینے کا واقعہ بیان کرتا ہے۔ اس سے یہی سبق لیا جا سکتا ہے کہ سفر اور اجتماعی حالت میں سادہ خوراک پر اکتفا کیا گیا۔ اس میں کوئی اضافی فضیلت یا حکم بیان نہیں ہوا، اس لیے بات متن تک محدود رہے گی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ نے سادہ خوراک استعمال کی۔
- سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ نے واقعہ کو یادگار انداز میں بیان کیا۔
- حدیث سے سفر یا جماعت میں سادگی کا پہلو سمجھ آتا ہے۔
- کھانے کے واقعے میں غیر ثابت فضائل شامل نہیں کرنے چاہئیں۔
