صحیح بخاری حدیث ۴۱۷۴ - سجدہ میں گھٹنے کے نیچے تکیہ

نماز میں عذر: سجدہ کرتے وقت گھٹنے کے نیچے تکیہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۷۴

وَعن مجزأة , عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ اسْمُهُ أُهْبَانُ بْنُ أَوْسٍ , " وَكَانَ اشْتَكَى رُكْبَتَهُ وَكَانَ إِذَا سَجَدَ جَعَلَ تَحْتَ رُكْبَتِهِ وِسَادَةً .

اہبان بن اوس روایت:

اور مجزاۃ نے اپنے ہی قبیلہ کے ایک صحابی کے متعلق جو بیعت رضوان میں شریک تھے اور جن کا نام اہبان بن اوس رضی اللہ عنہ تھا ‘ نقل کیا کہ ان کے ایک گھٹنے میں تکلیف تھی ‘ اس لیے جب وہ سجدہ کرتے تو اس گھٹنے کے نیچے کوئی نرم تکیہ رکھ لیتے تھے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۱۷۴ کا خلاصہ

اس روایت میں مجزاۃ اپنے قبیلے کے ایک صحابی اہبان بن اوس رضی اللہ عنہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ وہ بیعت رضوان میں شریک تھے۔ ان کے گھٹنے میں تکلیف تھی۔ جب وہ سجدہ کرتے تو اس گھٹنے کے نیچے ایک نرم تکیہ رکھ لیتے۔ حدیث کا موضوع نماز میں جسمانی عذر اور سہولت ہے۔ متن میں یہی بات ہے کہ گھٹنے کی تکلیف کی وجہ سے سجدے میں سہارا لیا جاتا تھا۔ اس سے عام فہم طور پر یہ سبق ملتا ہے کہ عبادت میں انسان اپنی حالت کو نظر انداز نہیں کرتا، بلکہ جو تکلیف ہو اس کے مطابق آسان صورت اختیار کی جا سکتی ہے۔ تاہم اس روایت سے کوئی لمبا فقہی حکم اپنی طرف سے نہیں بنانا چاہیے؛ بس اتنا کہا جائے گا کہ صحابی نے تکلیف کے وقت گھٹنے کے نیچے تکیہ رکھا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جسمانی تکلیف کے وقت نماز میں مناسب سہارا لیا جا سکتا ہے، جیسا کہ روایت میں آیا۔
  • صحابی نے سجدہ چھوڑا نہیں بلکہ تکلیف کے ساتھ آسان صورت اختیار کی۔
  • عبادت میں سختی کے بجائے اپنی حالت کا لحاظ بھی موجود ہے۔
  • حدیث میں گھٹنے کی تکلیف اور تکیہ رکھنے کی بات خاص طور پر بیان ہوئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں