صحیح بخاری حدیث ۴۱۸۲ - مومن عورتوں کا امتحان
مومن عورتوں کی ہجرت: امتحان والی آیت کی حدیث
صحیح بخاری : ۴۱۸۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۸۲
قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ , أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ : " إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْتَحِنُ مَنْ هَاجَرَ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ بِهَذِهِ الْآيَةِ : يَأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ سورة الممتحنة آية 12 ", وَعَنْ عَمِّهِ , قَالَ : بَلَغَنَا حِينَ أَمَرَ اللَّهُ رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَرُدَّ إِلَى الْمُشْرِكِينَ مَا أَنْفَقُوا عَلَى مَنْ هَاجَرَ مِنْ أَزْوَاجِهِمْ , وَبَلَغَنَا أَنَّ أَبَا بَصِيرٍ فَذَكَرَهُ بِطُولِهِ .
عائشہ روایت:
آیت «يا أيها النبي إذا جاءك المؤمنات» کے نازل ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے آنے والی عورتوں کو پہلے آزماتے تھے اور ان کے چچا سے روایت ہے کہ ہمیں وہ حدیث بھی معلوم ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ جو مسلمان عورتیں ہجرت کر کے چلی آتی ہیں ان کے شوہروں کو وہ سب کچھ واپس کر دیا جائے جو اپنی ان بیویوں کو وہ دے چکے ہیں اور ہمیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ابوبصیر ‘ پھر انہوں نے تفصیل کے ساتھ حدیث بیان کی۔
صحیح بخاری حدیث ۴۱۸۲ کا خلاصہ
اس روایت میں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب آیت يا أيها النبي إذا جاءك المؤمنات نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے آنے والی مومن عورتوں کو اسی آیت کے مطابق آزماتے تھے۔ روایت میں یہ بھی ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ جو مسلمان عورتیں ہجرت کر کے چلی آئیں، ان کے مشرک شوہروں کو وہ مال واپس کیا جائے جو انہوں نے اپنی بیویوں پر خرچ کیا تھا۔ آخر میں ابوبصیر کے واقعے کی طرف بھی اشارہ ہے، مگر یہاں تفصیل نہیں دی گئی۔ اس حدیث کا اصل موضوع مومن عورتوں کی ہجرت، آزمائش، اور مالی واپسی کا حکم ہے۔ اس لیے وضاحت صرف انہی باتوں تک رہے گی جو متن میں صاف موجود ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہجرت کر کے آنے والی مومن عورتوں کو آیت کے مطابق پرکھا جاتا تھا۔
- عورتوں کے معاملے میں وحی کے ذریعے خاص ہدایت دی گئی۔
- مشرک شوہروں کو ان کا خرچ واپس کرنے کا حکم روایت میں ذکر ہوا ہے۔
- حدیث میں ابوبصیر کے واقعے کی طرف اشارہ ہے، مگر تفصیل یہاں نہیں آئی۔
