صحیح بخاری حدیث ۴۱۸۳ - حدیبیہ میں عمرہ کا احرام
عمرہ حدیبیہ: رکاوٹ کی صورت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل
صحیح بخاری : ۴۱۸۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۱۸۳
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ نَافِعٍ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , خَرَجَ مُعْتَمِرًا فِي الْفِتْنَةِ , فَقَالَ : " إِنْ صُدِدْتُ عَنْ الْبَيْتِ صَنَعْنَا كَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مِنْ أَجْلِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ " .
نافع روایت:
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فتنہ کے زمانہ میں عمرہ کے ارادہ سے نکلے۔ پھر انہوں نے کہا کہ اگر بیت اللہ جانے سے مجھے روک دیا گیا تو میں وہی کام کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ چنانچہ آپ نے صرف عمرہ کا احرام باندھا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صلح حدیبیہ کے موقع پر صرف عمرہ ہی کا احرام باندھا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۱۸۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں نافع بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فتنہ کے زمانے میں عمرہ کے ارادے سے نکلے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مجھے بیت اللہ جانے سے روک دیا گیا تو میں وہی کروں گا جو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا تھا۔ پھر انہوں نے صرف عمرہ کا احرام باندھا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صلح حدیبیہ کے موقع پر عمرہ ہی کا احرام باندھا تھا۔ عمرہ حدیبیہ، احرام عمرہ، اور رکاوٹ کی صورت میں عمل کے بارے میں یہ روایت صحابی کے اتباع کو واضح کرتی ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی رائے کو اصل نہیں بنایا، بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سابق عمل کو سامنے رکھا۔ متن میں یہی اصل سبق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابن عمر رضی اللہ عنہما نے رکاوٹ کے امکان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو بنیاد بنایا۔
- حدیبیہ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرہ کا احرام باندھا تھا۔
- عبادت کے معاملے میں صحابہ سابق نبوی عمل کو یاد رکھتے تھے۔
- فتنہ کے زمانے میں بھی عبادت کا فیصلہ احتیاط اور اتباع کے ساتھ کیا گیا۔
