صحیح بخاری حدیث ۴۲۰۱ - صفیہؓ کی آزادی بطور مہر

ام المؤمنین صفیہؓ: آزادی بطور مہر کی مختصر حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۲۰۱

حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : " سَبَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ فَأَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا " ، فَقَالَ ثَابِتٌ لِأَنَسٍ : مَا أَصْدَقَهَا ؟ قَالَ : " أَصْدَقَهَا نَفْسَهَا فَأَعْتَقَهَا " .

انس بن مالک روایت:

صفیہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیدیوں میں تھیں لیکن آپ نے انہیں آزاد کر کے ان سے نکاح کر لیا تھا۔ ثابت رضی اللہ عنہ نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مہر کیا دیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ خود انہیں کو ان کے مہر میں دیا تھا یعنی انہیں آزاد کر دیا تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۴۲۰۱ کا خلاصہ

یہ روایت بہت مختصر ہے، مگر صفیہ رضی اللہ عنہا کے نکاح کا اصل نکتہ صاف بیان کرتی ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ صفیہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے قیدیوں میں تھیں، پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے انہیں آزاد کیا اور ان سے نکاح کیا۔ ثابت رحمہ اللہ نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے انہیں مہر کیا دیا؟ انس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے خود انہیں ان کے مہر میں دیا، یعنی انہیں آزاد کر دیا۔ اس حدیث میں نکاح، مہر اور آزادی کا واقعہ مختصر الفاظ میں آتا ہے۔ اس سے اتنا ہی معلوم ہوتا ہے کہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی آزادی کو اس نکاح میں مہر بنایا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم نے صفیہؓ کو آزاد کیا اور پھر ان سے نکاح فرمایا۔
  • اس روایت میں صفیہؓ کی آزادی ہی کو مہر بتایا گیا ہے۔
  • صحابہؓ علمی سوال مختصر مگر واضح انداز میں پوچھتے تھے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں