صحیح بخاری حدیث ۴۲۰۵ - لا حول ولا قوة إلا بالله کا خزانہ
لا حول ولا قوة إلا بالله: جنت کے خزانوں میں سے ایک کلمہ
صحیح بخاری : ۴۲۰۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۲۰۵
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : لَمَّا غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ ، أَوْ قَالَ : لَمَّا تَوَجَّهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْرَفَ النَّاسُ عَلَى وَادٍ ، فَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالتَّكْبِيرِ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ ، إِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمَّ وَلَا غَائِبًا ، إِنَّكُمْ تَدْعُونَ سَمِيعًا قَرِيبًا وَهُوَ مَعَكُمْ " ، وَأَنَا خَلْفَ دَابَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَنِي وَأَنَا أَقُولُ : لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ، فَقَالَ لِي : يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ " ، قُلْتُ : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ، قَالَ : " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " .
ابوموسیٰ اشعری روایت:
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر پر لشکر کشی کی یا یوں بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (خیبر کی طرف) روانہ ہوئے تو (راستے میں) لوگ ایک وادی میں پہنچے اور بلند آواز کے ساتھ تکبیر کہنے لگے اللہ اکبر، اللہ اکبر، لا الہٰ الا اللہ ”اللہ سب سے بلند و برتر ہے ‘ اللہ سب سے بلند و برتر ہے ‘ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی جانوں پر رحم کرو ‘ تم کسی بہرے کو یا ایسے شخص کو نہیں پکار رہے ہو ‘ جو تم سے دور ہو ‘ جسے تم پکار رہے ہو وہ سب سے زیادہ سننے والا اور تمہارے بہت نزدیک ہے بلکہ وہ تمہارے ساتھ ہے۔میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے پیچھے تھا۔ میں نے جب «لا حول ولا قوة إلا بالله» کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سن لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ بن قیس! میں نے کہا لبیک یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ایک کلمہ نہ بتا دوں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے؟ میں نے عرض کیا ضرور بتائیے، یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ کلمہ یہی ہے «لا حول ولا قوة إلا بالله» یعنی گناہوں سے بچنا اور نیکی کرنا یہ اسی وقت ممکن ہے جب اللہ کی مدد شامل ہو۔
صحیح بخاری حدیث ۴۲۰۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع ذکر الٰہی اور لا حول ولا قوة إلا بالله کی فضیلت ہے۔ غزوہ خیبر کے سفر میں لوگوں نے بلند آواز سے تکبیر کہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی جانوں پر نرمی کرو، تم کسی بہرے یا دور والے کو نہیں پکار رہے، بلکہ اللہ سننے والا، قریب اور تمہارے ساتھ ہے۔ یہ بات بہت سادہ مگر دل کو چھو لینے والی ہے کہ دعا اور ذکر میں صرف آواز بلند کرنا اصل مقصد نہیں، بلکہ اللہ کی قربت کا یقین اصل بات ہے۔ پھر جب ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے لا حول ولا قوة إلا بالله کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ بتایا۔ اس کلمے میں بندہ مانتا ہے کہ گناہ سے بچنا اور نیکی کرنا اللہ کی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دعا اور ذکر میں ادب، سکون اور نرمی پسندیدہ ہے۔
- اللہ بندے کی آواز سنتا ہے اور اس سے دور نہیں۔
- لا حول ولا قوة إلا بالله بندے کو اپنی کمزوری اور اللہ کی مدد یاد دلاتا ہے۔
