صحیح بخاری حدیث ۴۲۰۶ - دم اور شفا کی برکت
نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا دم اور زخم سے شفا کا واقعہ
صحیح بخاری : ۴۲۰۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۲۰۶
حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَ : " رَأَيْتُ أَثَرَ ضَرْبَةٍ فِي سَاقِ سَلَمَةَ , فَقُلْتُ : يَا أَبَا مُسْلِمٍ ، مَا هَذِهِ الضَّرْبَةُ ؟ فَقَالَ : هَذِهِ ضَرْبَةٌ أَصَابَتْنِي يَوْمَ خَيْبَرَ ، فَقَالَ النَّاسُ : أُصِيبَ سَلَمَةُ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَفَثَ فِيهِ ثَلَاثَ نَفَثَاتٍ ، فَمَا اشْتَكَيْتُهَا حَتَّى السَّاعَةِ " .
یزید بن ابی عبید روایت:
میں نے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی پنڈلی میں ایک زخم کا نشان دیکھ کر ان سے پوچھا: اے ابومسلم! یہ زخم کا نشان کیسا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ غزوہ خیبر میں مجھے یہ زخم لگا تھا ‘ لوگ کہنے لگے کہ سلمہ زخمی ہو گیا۔ چنانچہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ اس پر دم کیا ‘ اس کی برکت سے آج تک مجھے اس زخم سے کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔
صحیح بخاری حدیث ۴۲۰۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے زخم کا ذکر ہے جو انہیں غزوہ خیبر میں لگا تھا۔ یزید بن ابی عبید نے ان کی پنڈلی پر زخم کا نشان دیکھا اور پوچھا کہ یہ نشان کیسا ہے؟ حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ یہ زخم خیبر کے دن لگا تھا۔ لوگ کہنے لگے کہ سلمہ زخمی ہو گئے، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس زخم پر تین مرتبہ دم کیا، اور حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس کے بعد آج تک اس زخم سے کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع دم، دعا اور شفا ہے۔ یہاں شفا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دم کی برکت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، اس لیے بات کو اسی واقعے تک رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زخم یا تکلیف میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے دعا اور دم کروانا صحابہ کے عمل میں آیا۔
- اس واقعے میں تین مرتبہ دم کرنے کا ذکر صاف طور پر موجود ہے۔
- شفا اللہ کے حکم سے ہوتی ہے، اور نبی صلى الله عليه وسلم کے دم میں برکت تھی۔
