صحیح بخاری حدیث ۴۲۲۲ - گدھے کے گوشت کی ہانڈیاں
پالتو گدھے کے گوشت پر ممانعت کا اعلان
صحیح بخاری : ۴۲۲۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۲۲۲
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ : " أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصَابُوا حُمُرًا ، فَطَبَخُوهَا ، فَنَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَكْفِئُوا الْقُدُورَ " .
براء اور عبداللہ بن ابی اوفی روایت:
´ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا مجھ کو عدی بن ثابت نے خبر دی اور انہیں براء اور عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما نے کہ` وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ‘ پھر انہیں گدھے ملے تو انہوں نے ان کا گوشت پکایا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا کہ ہانڈیاں انڈیل دو۔
صحیح بخاری حدیث ۴۲۲۲ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی روایت ہی کے مضمون کو دہراتی ہے۔ براء اور عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ صحابہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ انہیں گدھے ملے، انہوں نے ان کا گوشت پکایا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا کہ ہانڈیاں انڈیل دو۔ اس تکرار سے معلوم ہوتا ہے کہ محدثین ایک ہی واقعے کو مختلف اسناد یا الفاظ کے ساتھ محفوظ کرتے ہیں۔ اصل حکم یہی ہے کہ پالتو گدھے کا گوشت نہ کھایا جائے، حتیٰ کہ اگر پک بھی رہا ہو تو اسے چھوڑ دیا جائے۔ عام فہم بات یہ ہے کہ مسلمان کے لیے حلال و حرام کا فیصلہ ذائقے یا ضرورت سے نہیں، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت سے ہوتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک ہی واقعہ مختلف روایتوں میں نقل ہو سکتا ہے۔
- حکم آنے کے بعد پکایا ہوا گوشت بھی استعمال نہیں کیا گیا۔
- پالتو گدھے کے گوشت کی ممانعت اس واقعے میں صاف طور پر موجود ہے۔
