صحیح بخاری حدیث ۴۲۲۱ - ہانڈیاں الٹنے کا حکم
پکا ہوا گوشت بھی چھوڑ دیا گیا جب نبی صلى الله عليه وسلم کا حکم پہنچا
صحیح بخاری : ۴۲۲۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۲۲۱
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ : " أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصَابُوا حُمُرًا ، فَطَبَخُوهَا ، فَنَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَكْفِئُوا الْقُدُورَ " .
براء اور عبداللہ بن ابی اوفی روایت:
´ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا مجھ کو عدی بن ثابت نے خبر دی اور انہیں براء اور عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما نے کہ` وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ‘ پھر انہیں گدھے ملے تو انہوں نے ان کا گوشت پکایا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا کہ ہانڈیاں انڈیل دو۔
صحیح بخاری حدیث ۴۲۲۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں براء اور عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما سے بیان ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ انہیں گدھے ملے تو انہوں نے ان کا گوشت پکایا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا کہ ہانڈیاں انڈیل دو۔ روایت مختصر ہے مگر حکم بہت صاف ہے۔ اس میں یہ نہیں کہا گیا کہ گوشت تھوڑا کھا لو یا بعد میں دیکھو، بلکہ پک چکی ہانڈیوں کو بھی الٹ دینے کا حکم دیا گیا۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع پالتو گدھے کے گوشت کی ممانعت اور حکم آتے ہی عمل کرنا ہے۔ سرچ کے لحاظ سے اکفئوا القدور، ہانڈیاں انڈیل دو حدیث، گدھے کا گوشت حرام، اور غزوہ خیبر کے کھانے کے احکام اہم الفاظ ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم کا حکم پہنچنے پر پکا ہوا گوشت بھی چھوڑ دیا گیا۔
- منادی کے اعلان کے ذریعے حکم لوگوں تک پہنچایا گیا۔
- پالتو گدھے کے گوشت کی ممانعت عملی طور پر نافذ ہوئی۔
