صحیح بخاری حدیث ۴۲۳ - مسجد میں لعان کا واقعہ
لعان کی حدیث: مسجد میں ایک نازک معاملے کا فیصلہ
صحیح بخاری : ۴۲۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۲۳
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ رَجُلًا ، قَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا ، أَيَقْتُلُهُ ؟ فَتَلَا عَنَا فِي الْمَسْجِدِ ، وَأَنَا شَاهِدٌ " .
سہل بن سعد ساعدی روایت:
ایک شخص نے کہا، یا رسول اللہ! اس شخص کے بارہ میں فرمائیے جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو (بدفعلی کرتے ہوئے) دیکھتا ہے، کیا اسے مار ڈالے؟ آخر اس مرد نے اپنی بیوی کے ساتھ مسجد میں لعان کیا اور اس وقت میں موجود تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۲۳ کا خلاصہ
یہ حدیث لعان کی حدیث کے طور پر آتی ہے۔ ایک شخص نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے پوچھا کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھے تو کیا وہ اسے قتل کر دے؟ حدیث میں آگے یہ بیان ہے کہ اس مرد نے اپنی بیوی کے ساتھ مسجد میں لعان کیا، اور سہل بن سعد رضی اللہ عنہ اس وقت موجود تھے۔ اس روایت سے صرف اتنی بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ ایک بہت حساس گھریلو اور شرعی معاملہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے سامنے لایا گیا، اور لعان کا عمل مسجد میں ہوا۔ اس حدیث میں ہمیں جلدی، غصے یا ذاتی فیصلہ کرنے کے بجائے نبی صلى الله عليه وسلم کی طرف رجوع کرنے کا انداز نظر آتا ہے۔ متن میں لعان کی تفصیلی شرائط بیان نہیں ہوئیں، اس لیے یہاں اسی واقعے تک بات رکھی گئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حساس گھریلو معاملہ اپنی طرف سے نمٹانے کے بجائے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے سامنے پیش کیا گیا۔
- حدیث میں مسجد کے اندر لعان ہونے کا ذکر موجود ہے۔
- غصے کے موقع پر قتل جیسے سخت قدم کا سوال نبی صلى الله عليه وسلم سے پوچھا گیا۔
- سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے اس واقعے کو اپنی موجودگی کے ساتھ بیان کیا۔
