صحیح بخاری حدیث ۴۲۲ - کھانے کی دعوت اور نبی صلى الله عليه وسلم کا انداز
کھانے کی دعوت کی حدیث: نبی صلى الله عليه وسلم کا سادہ اور محبت بھرا انداز
صحیح بخاری : ۴۲۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۲۲
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِك ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، سَمِعَ أَنَسًا ، قَالَ : " وَجَدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ مَعَهُ نَاسٌ ، فَقُمْتُ ، فَقَالَ لِي : أَأَرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، فَقَالَ : لِطَعَامٍ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، فَقَالَ لِمَنْ حَوْلَهُ : قُومُوا ، فَانْطَلَقَ ، وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ " .
انس روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور بھی کئی لوگ تھے۔ میں کھڑا ہو گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تجھ کو ابوطلحہ نے بھیجا ہے؟ میں نے کہا جی ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کھانے کے لیے؟ (بلایا ہے) میں نے عرض کی کہ جی ہاں! تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قریب موجود لوگوں سے فرمایا کہ چلو، سب حضرات چلنے لگے اور میں ان کے آگے آگے چل رہا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۲۲ کا خلاصہ
یہ حدیث کھانے کی دعوت اور مہمان نوازی کے بارے میں ایک سادہ مگر خوبصورت منظر پیش کرتی ہے۔ انس رضی اللہ عنہ مسجد میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس آئے، جہاں آپ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ کچھ لوگ بھی موجود تھے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے خود پوچھا کہ کیا ابوطلحہ نے بھیجا ہے؟ پھر پوچھا کہ کیا کھانے کے لیے بلایا ہے؟ جب انس رضی اللہ عنہ نے ہاں کہا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنے قریب موجود لوگوں سے فرمایا کہ چلو۔ اس میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا نرم انداز، پوچھ کر بات سمجھنا، اور ساتھیوں کو ساتھ لے چلنا نظر آتا ہے۔ حدیث میں یہ بھی ہے کہ انس رضی اللہ عنہ ان سب کے آگے آگے چل رہے تھے۔ اس لیے یہ روایت مسجد، دعوت، کھانے اور صحابہ کے باہمی تعلقات سے متعلق اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دعوت کی بات صاف انداز میں پوچھنا اور سمجھنا اچھا طریقہ ہے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم اپنے ساتھ موجود لوگوں کا خیال رکھتے تھے۔
- کھانے کی دعوت میں محبت اور سادگی کا انداز پسندیدہ ہے۔
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خدمت اور پیغام رسانی میں پیش پیش رہتے تھے۔
