صحیح بخاری حدیث ۴۲۵۴ - رجب میں عمرہ نہ کرنے کی وضاحت
رجب میں عمرہ کی حدیث: عائشہ رضی اللہ عنہا کی وضاحت
صحیح بخاری : ۴۲۵۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۲۵۴
ثُمَّ سَمِعْنَا اسْتِنَانَ عَائِشَةَ ، قَالَ عُرْوَةُ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، أَلَا تَسْمَعِينَ مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ؟ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ ، فَقَالَتْ : " مَا اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمْرَةً إِلَّا وَهُوَ شَاهِدُهُ ، وَمَا اعْتَمَرَ فِي رَجَبٍ قَطُّ " .
پھر ہم نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے (اپنے گھر میں) مسواک کرنے کی آواز سنی تو عروہ نے ان سے پوچھا: اے ایمان والوں کی ماں! آپ نے سنا ہے یا نہیں، ابوعبدالرحمٰن (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے تھے جس میں سے ایک رجب میں کیا تھا۔ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بھی عمرہ کیا تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما آپ کے ساتھ تھے لیکن آپ نے رجب میں کوئی عمرہ نہیں کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۲۵۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے ایک اہم وضاحت نقل ہوئی ہے۔ عروہ نے ان سے پوچھا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہہ رہے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے، جن میں ایک رجب میں تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بھی عمرہ کیا، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ساتھ موجود تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں کبھی عمرہ نہیں کیا۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دینی بات میں تحقیق اور تصحیح بہت اہم ہے۔ کسی بات کو عزت کے ساتھ درست کیا جا سکتا ہے۔ رجب میں عمرہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمرے، عائشہ رضی اللہ عنہا کی تصحیح اور عمرہ کی تحقیق اس روایت کے اہم الفاظ ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینی بات میں تحقیق کرنا ضروری ہے۔
- غلط فہمی ہو تو ادب کے ساتھ تصحیح کی جا سکتی ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال کو درست طریقے سے نقل کرنا چاہیے۔
