صحیح بخاری حدیث ۱۷۷۵ - عمرہ اور چاشت کی نماز کا بیان
عمرہ کی حدیث: نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے کتنے عمرے کیے؟
صحیح بخاری : ۱۷۷۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۷۷۵
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْمَسْجِدَ ، فَإِذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا جَالِسٌ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ ، " وَإِذَا نَاسٌ يُصَلُّونَ فِي الْمَسْجِدِ صَلَاةَ الضُّحَى ، قَالَ : فَسَأَلْنَاهُ عَنْ صَلَاتِهِمْ ، فَقَالَ : بِدْعَةٌ ، ثُمّ قَالَ لَهُ : كَمْ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : أَرْبَعًا ، إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ ، فَكَرِهْنَا أَنْ نَرُدَّ عَلَيْهِ .
مجاہد روایت:
میں اور عروہ بن زبیر مسجد نبوی میں داخل ہوئے، وہاں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، کچھ لوگ مسجد نبوی میں اشراق کی نماز پڑھ رہے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے عبداللہ بن عمر سے ان لوگوں کی اس نماز کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ بدعت ہے، پھر ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے تھے؟ انہوں نے کہا کہ چار، ایک ان میں سے رجب میں کیا تھا، لیکن ہم نے پسند نہیں کیا کہ ان کی اس بات کی تردید کریں۔
صحیح بخاری حدیث ۱۷۷۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع عمرہ ہے، ساتھ ہی اس میں چاشت کی نماز کے بارے میں بھی ایک بات آئی ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اور عروہ بن زبیر مسجد نبوی میں داخل ہوئے۔ وہاں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے پاس بیٹھے تھے۔ کچھ لوگ مسجد میں اشراق یا چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے۔ جب ان سے اس نماز کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اسے بدعت کہا۔ پھر عروہ نے پوچھا کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے کتنے عمرے کیے؟ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ چار عمرے، جن میں سے ایک رجب میں تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ ہم نے ان کی بات کی تردید کرنا پسند نہیں کیا۔ اس روایت میں سوال کرنے کا ادب، بزرگ صحابی کے جواب کو احترام سے سننا، اور عمرہ کی تعداد سے متعلق ایک نقل واضح طور پر سامنے آتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینی مسئلہ معلوم نہ ہو تو اہل علم اور صحابہ کرام سے سوال کرنا درست طریقہ ہے۔
- بات سننے میں ادب ضروری ہے، خاص طور پر جب بات کسی بڑے صحابی سے منقول ہو۔
- اس روایت میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے چار عمرے کرنے کا ذکر آیا ہے۔
- راویوں نے اختلافی بات پر فوراً سخت رد نہیں کیا، بلکہ ادب کو ملحوظ رکھا۔
