صحیح بخاری حدیث ۴۲۶۵ - غزوہ موتہ میں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی ثابت قدمی
غزوہ موتہ کی حدیث: خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی ثابت قدمی
صحیح بخاری : ۴۲۶۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۲۶۵
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ ، يَقُولُ : " لَقَدِ انْقَطَعَتْ فِي يَدِي يَوْمَ مُؤْتَةَ تِسْعَةُ أَسْيَافٍ ، فَمَا بَقِيَ فِي يَدِي إِلَّا صَفِيحَةٌ يَمَانِيَةٌ " .
خالد بن ولید روایت:
غزوہ موتہ میں میرے ہاتھ نو تلواریں ٹوٹی تھیں۔ صرف ایک یمن کا بنا ہوا چوڑے پھل کا تیغہ باقی رہ گیا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۲۶۵ کا خلاصہ
یہ حدیث غزوہ موتہ کے ایک سخت اور یادگار واقعے کو بیان کرتی ہے۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس دن ان کے ہاتھ میں نو تلواریں ٹوٹ گئیں، یہاں تک کہ صرف ایک یمنی چوڑے پھل والی تلوار باقی رہ گئی۔ اس روایت کا اصل پیغام خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی ہمت، میدان میں جم کر کھڑے رہنے اور مشکل گھڑی میں پیچھے نہ ہٹنے سے جڑا ہے۔ غزوہ موتہ کی حدیث تلاش کرنے والے لوگ عموماً خالد بن ولید کی بہادری، جنگ موتہ کا واقعہ اور نو تلواریں ٹوٹنے والی حدیث جاننا چاہتے ہیں۔ اس متن میں کوئی لمبی تفصیل نہیں، بلکہ ایک مختصر مگر بہت مضبوط منظر ہے: مشکل بڑھتی رہی، اسباب ٹوٹتے رہے، مگر صحابی رسول رضی اللہ عنہ میدان میں موجود رہے۔ یہی اس روایت کی سادہ اور صاف بات ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مشکل حالات میں ثابت قدمی مومن کے کردار کا اہم حصہ ہے۔
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دین کے لیے سخت آزمائشیں برداشت کیں۔
- غزوہ موتہ میں خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی ہمت واضح طور پر سامنے آتی ہے۔
- حدیث ہمیں واقعہ اتنا ہی بتاتی ہے جتنا بیان ہوا، اس میں اپنی طرف سے اضافہ نہیں کرنا چاہیے۔
