صحیح بخاری حدیث ۴۲۸۵ - ان شاء اللہ کہنے کی نبوی تعلیم
ان شاء اللہ کہنے کی حدیث: سفر اور ارادے میں توکل
صحیح بخاری : ۴۲۸۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۲۸۵
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَرَادَ حُنَيْنًا : " مَنْزِلُنَا غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ حَيْثُ تَقَاسَمُوا عَلَى الْكُفْرِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حنین کا ارادہ کیا تو فرمایا ”ان شاءاللہ کل ہمارا قیام خیف بنی کنانہ میں ہو گا جہاں قریش نے کفر کے لیے قسم کھائی تھی۔“
صحیح بخاری حدیث ۴۲۸۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے حنین کی طرف جانے کا ارادہ کیا تو اگلے دن کے قیام کی جگہ بتاتے ہوئے ان شاء اللہ فرمایا۔ یہ انداز ہمیں سکھاتا ہے کہ اپنے منصوبے بنانا درست ہے، مگر دل میں یہ بات رہنی چاہیے کہ اصل اختیار اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ یہاں خیف بنی کنانہ کا ذکر بھی آیا، جہاں قریش نے کفر پر قسم کھائی تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم موقع اور مقام کو واضح کرتے تھے، مگر اپنی بات کو اللہ کی چاہت کے ساتھ جوڑتے تھے۔ ان شاء اللہ کی حدیث، توکل علی اللہ، اور سفر کی دعا جیسے الفاظ تلاش کرنے والے اس روایت سے یہ سادہ سبق لے سکتے ہیں کہ مومن اپنی زبان اور دل دونوں میں اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی کام کا ارادہ کرتے وقت ان شاء اللہ کہنا نبوی طریقہ ہے۔
- منصوبہ بندی کے ساتھ اللہ کی مشیت کو یاد رکھنا چاہیے۔
- سفر یا قیام کی بات کرتے ہوئے بھی توکل کا انداز اپنانا چاہیے۔
- ماضی کے مقامات سے عبرت لینا ایمان والے کے لیے مفید ہے۔
