صحیح بخاری حدیث ۴۳۰۶ - بیعت، ایمان اور ہجرت کا حکم
بیعت کی حدیث: ہجرت کے بعد ایمان، اسلام اور جہاد
صحیح بخاری : ۴۳۰۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۳۰۶
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مُجَاشِعٌ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَخِي بَعْدَ الْفَتْحِ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، جِئْتُكَ بِأَخِي لِتُبَايِعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ ، قَالَ : " ذَهَبَ أَهْلُ الْهِجْرَةِ بِمَا فِيهَا " ، فَقُلْتُ : عَلَى أَيِّ شَيْءٍ تُبَايِعُهُ ، قَالَ : " أُبَايِعُهُ عَلَى الْإِسْلَامِ ، وَالْإِيمَانِ ، وَالْجِهَادِ " ، فَلَقِيتُ مَعْبَدًا بَعْدُ ، وَكَانَ أَكْبَرَهُمَا فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : صَدَقَ مُجَاشِعٌ .
مجاشع بن مسعود روایت:
فتح مکہ کے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے بھائی (مجالد) کو لے کر حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں اسے اس لیے لے کر حاضر ہوا ہوں تاکہ آپ ہجرت پر اس سے بیعت لے لیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہجرت کرنے والے اس کی فضیلت و ثواب کو حاصل کر چکے (یعنی اب ہجرت کرنے کا زمانہ تو گزر چکا)۔ میں نے عرض کیا: پھر آپ اس سے کس چیز پر بیعت لیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان، اسلام اور جہاد پر۔ابی عثمان نہدی نے کہا کہ پھر میں (مجاشع کے بھائی) ابومعبد مجالد سے ملا وہ دونوں بھائیوں سے بڑے تھے، میں نے ان سے بھی اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مجاشع نے حدیث ٹھیک طرح بیان کی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۳۰۶ کا خلاصہ
یہ روایت بھی مجاشع بن مسعود رضی اللہ عنہ کے واقعہ کو بیان کرتی ہے۔ وہ اپنے بھائی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئے تاکہ ہجرت پر بیعت ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہجرت کرنے والے اس کی فضیلت لے چکے، یعنی وہ خاص موقع گزر چکا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان، اسلام اور جہاد پر بیعت لینے کا ذکر فرمایا۔ اس میں بڑا صاف پیغام ہے کہ جب ایک خاص دینی موقع گزر جائے تو بندہ دین کے باقی واضح کاموں پر قائم رہے۔ اس حدیث میں ہجرت کی حدیث، بیعت کی حدیث، ایمان کی بیعت، اسلام پر بیعت اور جہاد پر بیعت جیسے سرچ الفاظ قدرتی طور پر آتے ہیں۔ روایت کے آخر میں ابومعبد مجالد سے تصدیق بھی نقل ہوئی، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث بیان کرنے میں احتیاط کی گئی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہجرت کا خاص اجر پہلے ہجرت کرنے والوں کو مل چکا تھا۔
- فتح مکہ کے بعد بیعت ایمان، اسلام اور جہاد پر لی گئی۔
- صحابہ کرام حدیث کو سمجھنے اور درست نقل کرنے میں ایک دوسرے سے پوچھتے تھے۔
- دین میں نیکی کے دروازے بدلتے حالات کے ساتھ واضح رہتے ہیں۔
