صحیح بخاری حدیث ۴۳۰۷ - ہجرت کا ثواب اور اسلام پر بیعت

ہجرت کا ثواب: اسلام اور جہاد پر بیعت کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۳۰۷

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ : انْطَلَقْتُ بِأَبِي مَعْبَدٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُبَايِعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ ، قَالَ : " مَضَتِ الْهِجْرَةُ لِأَهْلِهَا أُبَايِعُهُ عَلَى : الْإِسْلَامِ ، وَالْجِهَادِ " ، فَلَقِيتُ أَبَا مَعْبَدٍ فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : صَدَقَ مُجَاشِعٌ ، وَقَالَ خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ مُجَاشِعٍ : أَنَّهُ جَاءَ بِأَخِيهِ مُجَالِدٍ .

مجاشع بن مسعود روایت:

میں اپنے بھائی (ابومعبد رضی اللہ عنہ) کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ سے ہجرت پر بیعت کرانے کے لیے لے گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہجرت کا ثواب تو ہجرت کرنے والوں کے ساتھ ختم ہو چکا۔ البتہ میں اس سے اسلام اور جہاد پر بیعت لیتا ہوں۔ابوعثمان نے کہا کہ پھر میں نے ابومعبد رضی اللہ عنہ سے مل کر ان سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مجاشع رضی اللہ عنہ نے ٹھیک بیان کیا اور خالد حذاء نے بھی ابوعثمان سے بیان کیا، ان سے مجاشع رضی اللہ عنہ نے کہ وہ اپنے بھائی مجالد رضی اللہ عنہ کو لے کر آئے تھے، (پھر حدیث کو آخر تک بیان کیا، اس کو اسماعیل نے وصل کیا ہے)۔

صحیح بخاری حدیث ۴۳۰۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں مجاشع بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے بھائی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہجرت پر بیعت کے لیے لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہجرت کا ثواب اہل ہجرت کے ساتھ گزر چکا۔ پھر آپ نے اسلام اور جہاد پر بیعت لینے کا فرمایا۔ یہاں بات بہت سادہ ہے: ایک خاص دور کی ہجرت کا مقام ان لوگوں کے لیے تھا جنہوں نے اس وقت اللہ اور رسول کی طرف ہجرت کی۔ بعد کے شخص کے لیے دین کا راستہ بند نہیں ہوا، بلکہ اسلام پر قائم ہونا اور جہاد کا عزم باقی رہا۔ اس روایت میں ہجرت کا ثواب، اسلام پر بیعت، جہاد پر بیعت اور فتح مکہ کے بعد ہجرت جیسے الفاظ اصل موضوع سے جڑے ہیں۔ آخر میں ابومعبد رضی اللہ عنہ سے تصدیق بھی نقل ہوئی، اس لیے روایت میں بیان کی مضبوطی بھی دکھائی دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • خاص ہجرت کا اجر اس کے اہل کو مل چکا تھا۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام اور جہاد پر بیعت لی۔
  • بیعت کا مقصد دین سے وابستگی اور عمل کا عہد تھا۔
  • حدیث کی بات کو متعلقہ صحابی سے پوچھ کر مضبوط کیا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں