صحیح بخاری حدیث ۴۳۰۸ - ہجرت ختم، اسلام اور جہاد باقی
فتح مکہ کے بعد ہجرت: اسلام اور جہاد کی بیعت
صحیح بخاری : ۴۳۰۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۳۰۸
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ : انْطَلَقْتُ بِأَبِي مَعْبَدٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُبَايِعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ ، قَالَ : " مَضَتِ الْهِجْرَةُ لِأَهْلِهَا أُبَايِعُهُ عَلَى : الْإِسْلَامِ ، وَالْجِهَادِ " ، فَلَقِيتُ أَبَا مَعْبَدٍ فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : صَدَقَ مُجَاشِعٌ ، وَقَالَ خَالِدٌ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ مُجَاشِعٍ : أَنَّهُ جَاءَ بِأَخِيهِ مُجَالِدٍ .
مجاشع بن مسعود روایت:
میں اپنے بھائی (ابومعبد رضی اللہ عنہ) کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ سے ہجرت پر بیعت کرانے کے لیے لے گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہجرت کا ثواب تو ہجرت کرنے والوں کے ساتھ ختم ہو چکا۔ البتہ میں اس سے اسلام اور جہاد پر بیعت لیتا ہوں۔ ابوعثمان نے کہا کہ پھر میں نے ابومعبد رضی اللہ عنہ سے مل کر ان سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مجاشع رضی اللہ عنہ نے ٹھیک بیان کیا اور خالد حذاء نے بھی ابوعثمان سے بیان کیا، ان سے مجاشع رضی اللہ عنہ نے کہ وہ اپنے بھائی مجالد رضی اللہ عنہ کو لے کر آئے تھے، (پھر حدیث کو آخر تک بیان کیا، اس کو اسماعیل نے وصل کیا ہے)۔
صحیح بخاری حدیث ۴۳۰۸ کا خلاصہ
اس روایت میں وہی بنیادی واقعہ بیان ہوا ہے کہ مجاشع بن مسعود رضی اللہ عنہ اپنے بھائی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تاکہ ہجرت پر بیعت ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہجرت اپنے اہل کے لیے گزر چکی، پھر فرمایا کہ میں اسے اسلام اور جہاد پر بیعت کرتا ہوں۔ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ فتح مکہ کے بعد وہ خاص ہجرت باقی نہ رہی جس کا پہلے بڑا مقام تھا، لیکن بندے کے لیے اسلام قبول کرنا، اس پر قائم رہنا اور جہاد کے لیے تیار رہنا باقی تھا۔ سرچ کے لحاظ سے اس حدیث میں فتح مکہ کے بعد ہجرت، ہجرت ختم ہونے کی حدیث، اسلام پر بیعت اور جہاد پر بیعت جیسے الفاظ اصل پیغام کو بیان کرتے ہیں۔ روایت میں ابومعبد رضی اللہ عنہ سے تصدیق بھی موجود ہے، جو نقل کی احتیاط کو ظاہر کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- فتح مکہ کے بعد خاص ہجرت کا حکم پہلے جیسا باقی نہیں رہا۔
- اسلام اور جہاد پر بیعت دین سے عملی وابستگی کا اظہار ہے۔
- صحابہ کرام روایت کی صحت جاننے کے لیے اصل واقعہ والوں سے پوچھتے تھے۔
- دینی عہد میں ایمان اور عمل دونوں کا ذکر اہم ہے۔
