صحیح بخاری حدیث ۴۳۲۹ - احرام اور خوشبو

احرام میں خوشبو اور جبہ: عمرہ کے مسئلے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۳۲۹

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ يَعْلَى كَانَ يَقُولُ : لَيْتَنِي أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ ، قَالَ : فَبَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ قَدْ أُظِلَّ بِهِ مَعَهُ فِيهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ إِذْ جَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ عَلَيْهِ جُبَّةٌ مُتَضَمِّخٌ بِطِيبٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ فِي جُبَّةٍ بَعْدَ مَا تَضَمَّخَ بِالطِّيبِ ؟ فَأَشَارَ عُمَرُ إِلَى يَعْلَى بِيَدِهِ أَنْ تَعَالَ ، فَجَاءَ يَعْلَى فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ ، فَإِذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْمَرُّ الْوَجْهِ يَغِطُّ كَذَلِكَ سَاعَةً ، ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ ، فَقَالَ : " أَيْنَ الَّذِي يَسْأَلُنِي عَنِ الْعُمْرَةِ آنِفًا ؟ " فَالْتُمِسَ الرَّجُلُ ، فَأُتِيَ بِهِ فَقَالَ : " أَمَّا الطِّيبُ الَّذِي بِكَ ، فَاغْسِلْهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، وَأَمَّا الْجُبَّةُ فَانْزِعْهَا ، ثُمَّ اصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ كَمَا تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ " .

صفوان بن یعلیٰ بن امیہ روایت:

یعلیٰ نے کہا کاش میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھ سکتا جب آپ پر وحی نازل ہوتی ہے۔ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ آپ کے لیے ایک کپڑے سے سایہ کر دیا گیا تھا اور اس میں چند صحابہ رضی اللہ عنہم بھی آپ کے ساتھ موجود تھے۔اتنے میں ایک اعرابی آئے وہ ایک جبہ پہنے ہوئے تھے، خوشبو میں بسا ہوا۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک ایسے شخص کے بارے میں آپ کا کیا حکم ہے جو اپنے جبہ میں خوشبو لگانے کے بعد احرام باندھے؟ فوراً ہی عمر رضی اللہ عنہ نے یعلیٰ رضی اللہ عنہ کو آنے کے لیے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ یعلیٰ رضی اللہ عنہ حاضر ہو گئے اور اپنا سر (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے لیے) اندر کیا (نزول وحی کی کیفیت سے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک سرخ ہو رہا تھا اور زور زور سے سانس چل رہی تھی۔تھوڑی دیر تک یہی کیفیت رہی پھر ختم ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ ابھی عمرہ کے متعلق جس نے سوال کیا تھا وہ کہاں ہے؟ انہیں تلاش کر کے لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو خوشبو تم نے لگا رکھی ہے اسے تین مرتبہ دھو لو اور جبہ اتار دو اور پھر عمرہ میں وہی کام کرو جو حج میں کرتے ہو۔

صحیح بخاری حدیث ۴۳۲۹ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع احرام، خوشبو اور عمرہ کا طریقہ ہے۔ ایک اعرابی نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس آیا۔ اس نے جبہ پہنا ہوا تھا اور خوشبو لگی ہوئی تھی۔ اس نے پوچھا کہ ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے جو خوشبو لگا کر اور جبہ پہن کر عمرہ کا احرام باندھ لے۔ اسی وقت وحی نازل ہوئی، اور یعلیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی کیفیت دیکھی۔ جب کیفیت ختم ہوئی تو آپ صلى الله عليه وسلم نے سوال کرنے والے کو بلایا اور فرمایا کہ جو خوشبو لگی ہے اسے تین مرتبہ دھو لو، جبہ اتار دو، اور عمرہ میں وہی کام کرو جو حج میں کرتے ہو۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ عبادت کے مسائل میں اندازے کے بجائے نبی صلى الله عليه وسلم کی ہدایت لی جاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • احرام کے مسئلے میں سوال کرنا درست ہے جب آدمی کو حکم معلوم نہ ہو۔
  • خوشبو لگی ہو تو اس حدیث کے مطابق اسے تین مرتبہ دھونے کا حکم دیا گیا۔
  • جبہ اتارنے اور عمرہ کو حج کے طریقے کی طرح کرنے کی ہدایت دی گئی۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں