صحیح بخاری حدیث ۴۳۴۶ - احرام، طواف اور سعی کا طریقہ
حج تمتع کی حدیث: احرام، طواف اور صفا مروہ کی سعی
صحیح بخاری : ۴۳۴۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۳۴۶
حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ هُوَ النَّرْسِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَائِذٍ ، حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ طَارِقَ بْنَ شِهَابٍ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَرْضِ قَوْمِي ، فَجِئْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنِيخٌ بِالْأَبْطَحِ ، فَقَالَ : " أَحَجَجْتَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ ؟ " قُلْتُ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " كَيْفَ ؟ " قُلْتَ : قَالَ : قُلْتُ : لَبَّيْكَ إِهْلَالًا كَإِهْلَالِكَ ، قَالَ : " فَهَلْ سُقْتَ مَعَكَ هَدْيًا ؟ " قُلْتُ : لَمْ أَسُقْ ، قَالَ : " فَطُفْ بِالْبَيْتِ وَاسْعَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، ثُمَّ حِلَّ " ، فَفَعَلْتُ حَتَّى مَشَطَتْ لِي امْرَأَةٌ مِنْ نِسَاءِ بَنِي قَيْسٍ وَمَكُثْنَا بِذَلِكَ حَتَّى اسْتُخْلِفَ عُمَرُ .
ابوموسیٰ اشعری روایت:
مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری قوم کے وطن (یمن) میں بھیجا۔ پھر میں آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (مکہ کی) وادی ابطح میں پڑاؤ کئے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: عبداللہ بن قیس! تم نے حج کا احرام باندھا لیا؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں یا رسول اللہ! آپ نے دریافت فرمایا کہ کلمات احرام کس طرح کہے؟ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا (کہ یوں کلمات ادا کئے ہیں) ”اے اللہ میں حاضر ہوں، اور جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا ہے، میں نے بھی اسی طرح باندھا ہے۔“فرمایا تم اپنے ساتھ قربانی کا جانور بھی لائے ہو؟ میں نے کہا کہ کوئی جانور تو میں اپنے ساتھ نہیں لایا۔ فرمایا تم پھر پہلے بیت اللہ کا طواف اور صفا اور مروہ کی سعی کر لو۔ ان رکنوں کی ادائیگی کے بعد حلال ہو جانا۔ میں نے اسی طرح کیا اور بنو قیس کی خاتون نے میرے سر میں کنگھا کیا اور اسی قاعدے پر ہم اس وقت تک چلتے رہے جب تک عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے (اسی کو حج تمتع کہتے ہیں اور یہ بھی سنت ہے)۔
صحیح بخاری حدیث ۴۳۴۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع حج اور احرام ہے۔ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ یمن سے آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابطح میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تم نے حج کا احرام باندھا ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام جیسا احرام باندھا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا قربانی کا جانور ساتھ لائے ہو؟ جب انہوں نے بتایا کہ نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ بیت اللہ کا طواف کرو، صفا اور مروہ کی سعی کرو، پھر حلال ہو جاؤ۔ یہ حدیث حج تمتع، احرام کی نیت، طواف کعبہ اور سعی صفا مروہ کے بارے میں واضح رہنمائی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- احرام کی حالت میں آدمی کو اپنے عمل کے بارے میں شرعی رہنمائی لینی چاہیے۔
- قربانی کا جانور ساتھ نہ ہو تو طواف اور سعی کے بعد حلال ہونے کا حکم اس حدیث میں آیا ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے معاملے میں واضح اور عملی ہدایت دی۔
- طواف بیت اللہ اور صفا مروہ کی سعی حج و عمرہ کے اہم اعمال میں سے ہیں۔
