صحیح بخاری حدیث ۱۷۸۳ - حج اور عمرہ کے احرام کا بیان
حج اور عمرہ کا احرام: عائشہؓ کے عمرہ کا واقعہ
صحیح بخاری : ۱۷۸۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۷۸۳
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَافِينَ لِهِلَالِ ذِي الْحَجَّةِ ، فَقَالَ لَنَا : مَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِالْحَجِّ فَلْيُهِلَّ ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ بِعُمْرَةٍ ، فَلَوْلَا أَنِّي أَهْدَيْتُ لَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ ، قَالَتْ : فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ ، وَكُنْتُ مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَأَظَلَّنِي يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَنَا حَائِضٌ ، فَشَكَوْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : ارْفُضِي عُمْرَتَكِ وَانْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ ، فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ أَرْسَلَ مَعِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ إِلَى التَّنْعِيمِ ، فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ مَكَانَ عُمْرَتِي " .
عائشہ روایت:
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے نکلے تو ذی الحجہ کا چاند نکلنے والا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی حج کا احرام باندھنا چاہتا ہے تو وہ حج کا باندھ لے اور اگر کوئی عمرہ کا باندھنا چاہتا ہے تو وہ عمرہ کا باندھ لے۔ اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی عمرہ کا احرام باندھتا۔عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم میں بعض نے تو عمرہ کا احرام باندھا اور بعض نے حج کا احرام باندھا۔ میں بھی ان لوگوں میں تھی جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا، لیکن عرفہ کا دن آیا تو میں اس وقت حائضہ تھی، چنانچہ میں نے اس کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر عمرہ چھوڑ دے اور سر کھول دے اور اس میں کنگھا کر لے پھر حج کا احرام باندھا لینا۔ (میں نے ایسا ہی کیا) جب محصب میں قیام کی رات آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن کو میرے ساتھ تنعیم بھیجا، وہاں سے میں نے عمرہ کا احرام اپنے اس عمرہ کے بدلہ میں باندھا (جس کو توڑ ڈالا تھا)۔
صحیح بخاری حدیث ۱۷۸۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں حج اور عمرہ کے احرام کا اہم واقعہ بیان ہوا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ مدینہ سے نکلیں، جب ذی الحجہ کا چاند قریب تھا۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے لوگوں کو اختیار دیا کہ جو حج کا احرام باندھنا چاہے وہ حج کا باندھے، اور جو عمرہ کا احرام باندھنا چاہے وہ عمرہ کا باندھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عمرہ کا احرام باندھا، مگر عرفہ کے دن وہ حائضہ تھیں۔ انہوں نے نبی صلى الله عليه وسلم سے شکایت کی تو آپ صلى الله عليه وسلم نے انہیں عمرہ چھوڑ کر حج کا احرام باندھنے کی ہدایت دی۔ بعد میں محصب کی رات عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ تنعیم بھیجا گیا، جہاں سے انہوں نے اپنے چھوڑے ہوئے عمرہ کے بدلے عمرہ کیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حج اور عمرہ کے احرام کا معاملہ نبی صلى الله عليه وسلم کی ہدایت کے مطابق کیا جانا چاہیے۔
- عذر پیش آ جائے تو دین میں رہنمائی اور آسانی موجود ہے۔
- عائشہؓ کے واقعہ میں تنعیم سے عمرہ کرنے کا واضح ذکر آیا ہے۔
