صحیح بخاری حدیث ۱۷۸۲ - عمرہ کے مسائل کا بیان
صحیح بخاری : ۱۷۸۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۷۸۲
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُخْبِرُنَا ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِامْرَأَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ سَمَّاهَا ابْنُ عَبَّاسٍ فَنَسِيتُ اسْمَهَا : " مَا مَنَعَكِ أَنْ تَحُجِّينَ مَعَنَا ؟ , قَالَتْ : كَانَ لَنَا نَاضِحٌ فَرَكِبَهُ أَبُو فُلَانٍ وَابْنُهُ لِزَوْجِهَا وَابْنِهَا ، وَتَرَكَ نَاضِحًا نَنْضَحُ عَلَيْهِ ، قَالَ : فَإِذَا كَانَ رَمَضَانُ اعْتَمِرِي فِيهِ ، فَإِنَّ عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ حَجَّةٌ أَوْ نَحْوًا مِمَّا قَالَ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری خاتون (ام سنان رضی اللہ عنہا) سے (ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کا نام بتایا تھا لیکن مجھے یاد نہ رہا) پوچھا کہ تو ہمارے ساتھ حج کیوں نہیں کرتی؟ وہ کہنے لگی کہ ہمارے پاس ایک اونٹ تھا، جس پر ابوفلاں (یعنی اس کا خاوند) اور اس کا بیٹا سوار ہو کر حج کے لیے چل دیئے اور ایک اونٹ انہوں نے چھوڑا ہے، جس سے پانی لایا جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے اچھا جب رمضان آئے تو عمرہ کر لینا کیونکہ رمضان کا عمرہ ایک حج کے برابر ہوتا ہے یا اسی جیسی کوئی بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی۔
