صحیح بخاری حدیث ۴۳۵۰ - علی رضی اللہ عنہ سے بغض نہ رکھو
علی رضی اللہ عنہ کی فضیلت: بغض نہ رکھنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۴۳۵۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۳۵۰
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مَنْجُوفٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا إِلَى خَالِدٍ لِيَقْبِضَ الْخُمُسَ ، وَكُنْتُ أُبْغِضُ عَلِيًّا وَقَدِ اغْتَسَلَ ، فَقُلْتُ لِخَالِدٍ : أَلَا تَرَى إِلَى هَذَا ؟ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " يَا بُرَيْدَةُ ، أَتُبْغِضُ عَلِيًّا ؟ " فَقُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " لَا تُبْغِضْهُ ، فَإِنَّ لَهُ فِي الْخُمُسِ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ " .
بریدہ بن حصیب روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی جگہ علی رضی اللہ عنہ کو (یمن) بھیجا تاکہ غنیمت کے خمس (پانچواں حصہ) کو ان سے لے آئیں۔ مجھے علی رضی اللہ عنہ سے بہت بغض تھا اور میں نے انہیں غسل کرتے دیکھا تھا۔ میں نے خالد رضی اللہ عنہ سے کہا تم دیکھتے ہو علی رضی اللہ عنہ نے کیا کیا (اور ایک لونڈی سے صحبت کی) پھر جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو میں نے آپ سے بھی اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا (بریدہ) کیا تمہیں علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے بغض ہے؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں، فرمایا علی سے دشمنی نہ رکھنا کیونکہ خمس (غنیمت کے پانچویں حصے) میں اس سے بھی زیادہ حق ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۳۵۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع علی رضی اللہ عنہ کا مقام اور خمس کا حق ہے۔ بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو خالد رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تاکہ غنیمت کا خمس لے آئیں۔ بریدہ رضی اللہ عنہ کے دل میں علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں بغض تھا، پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تمہیں علی سے بغض ہے؟ جب انہوں نے ہاں کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ علی سے دشمنی نہ رکھو، کیونکہ خمس میں ان کا اس سے بھی زیادہ حق ہے۔ یہ حدیث علی رضی اللہ عنہ سے محبت، صحابہ کے مقام اور غنیمت کے خمس کے بارے میں اہم رہنمائی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھنے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا۔
- خمس کے معاملے میں علی رضی اللہ عنہ کے حق کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔
- کسی صحابی کے بارے میں دل کی بات ہو تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے درست کیا۔
- دینی فیصلے ذاتی ناراضی یا پسند ناپسند پر قائم نہیں ہوتے۔
