صحیح بخاری حدیث ۴۳۶۱ - جیش الخبط، شدید بھوک اور عنبر مچھلی
عنبر مچھلی کی حدیث: جیش الخبط میں بھوک کے بعد رزق
صحیح بخاری : ۴۳۶۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۳۶۱
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : الَّذِي حَفِظْنَاهُ مِنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مِائَةِ رَاكِبٍ أَمِيرُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ نَرْصُدُ عِيرَ قُرَيْشٍ ، فَأَقَمْنَا بِالسَّاحِلِ نِصْفَ شَهْرٍ ، فَأَصَابَنَا جُوعٌ شَدِيدٌ حَتَّى أَكَلْنَا الْخَبَطَ ، فَسُمِّيَ ذَلِكَ الْجَيْشُ جَيْشَ الْخَبَطِ ، فَأَلْقَى لَنَا الْبَحْرُ دَابَّةً ، يُقَالُ لَهَا : الْعَنْبَرُ ، فَأَكَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ وَادَّهَنَّا مِنْ وَدَكِهِ حَتَّى ثَابَتْ إِلَيْنَا أَجْسَامُنَا ، فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ ، فَنَصَبَهُ فَعَمَدَ إِلَى أَطْوَلِ رَجُلٍ مَعَهُ ، قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً : ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ ، فَنَصَبَهُ وَأَخَذَ رَجُلًا وَبَعِيرًا فَمَرَّ تَحْتَهُ ، قَالَ جَابِرٌ : وَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ نَحَرَ ثَلَاثَ جَزَائِرَ ، ثُمَّ نَحَرَ ثَلَاثَ جَزَائِرَ ، ثُمَّ نَحَرَ ثَلَاثَ جَزَائِرَ ، ثُمَّ إِنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ نَهَاهُ ، وَكَانَ عَمْرٌو يَقُولُ : أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحٍ ، أَنَّ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ ، قَالَ لِأَبِيهِ : كُنْتُ فِي الْجَيْشِ ، فَجَاعُوا ، قَالَ : انْحَرْ ، قَالَ : نَحَرْتُ ، قَالَ : ثُمَّ جَاعُوا ، قَالَ : انْحَرْ ، قَالَ : نَحَرْتُ ، قَالَ : ثُمَّ جَاعُوا ، قَالَ : انْحَرْ ، قَالَ : نَحَرْتُ ، ثُمَّ جَاعُوا ، قَالَ : انْحَرْ ، قَالَ : نُهِيتُ .
جابر بن عبداللہ روایت:
ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین سو سواروں کے ساتھ بھیجا اور ہمارا امیر ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بنایا۔ تاکہ ہم قریش کے قافلہ تجارت کی تلاش میں رہیں۔ ساحل سمندر پر ہم پندرہ دن تک پڑاؤ ڈالے رہے۔ ہمیں (اس سفر میں) بڑی سخت بھوک اور فاقے کا سامنا کرنا پڑا، یہاں تک نوبت پہنچی کہ ہم نے ببول کے پتے کھا کر وقت گذارا۔ اسی لیے اس فوج کا لقب پتوں کی فوج ہو گیا۔پھر اتفاق سے سمندر نے ہمارے لیے ایک مچھلی جیسا جانور ساحل پر پھینک دیا، اس کا نام عنبر تھا، ہم نے اس کو پندرہ دن تک کھایا اور اس کی چربی کو تیل کے طور پر (اپنے جسموں پر) ملا۔ اس سے ہمارے بدن کی طاقت و قوت پھر لوٹ آئی۔ بعد میں ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی ایک پسلی نکال کر کھڑی کروائی اور جو لشکر میں سب سے لمبے آدمی تھے، انہیں اس کے نیچے سے گزارا۔ سفیان بن عیینہ نے ایک مرتبہ اس طرح بیان کیا کہ ایک پسلی نکال کر کھڑی کر دی اور ایک شخص کو اونٹ پر سوار کرایا وہ اس کے نیچے سے نکل گیا۔جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ لشکر کے ایک آدمی نے پہلے تین اونٹ ذبح کئے پھر تین اونٹ ذبح کئے اور جب تیسری مرتبہ تین اونٹ ذبح کئے تو ابوعبیدہ نے انہیں روک دیا کیونکہ اگر سب اونٹ ذبح کر دیتے تو سفر کیسے ہوتا اور عمرو بن دینار نے بیان کیا کہ ہم کو ابوصالح ذکوان نے خبر دی کہ قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نے (واپس آ کر) اپنے والد (سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ) سے کہا کہ میں بھی لشکر میں تھا جب لوگوں کو بھوک لگی تو ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اونٹ ذبح کرو، قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے ذبح کر دیا کہا کہ پھر بھوکے ہوئے تو انہوں نے کہا کہ اونٹ ذبح کرو، میں نے ذبح کیا، بیان کیا کہ جب پھر بھوکے ہوئے تو کہا کہ اونٹ ذبح کرو، میں نے ذبح کیا، پھر بھوکے ہوئے تو کہا کہ اونٹ ذبح کرو، پھر قیس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس مرتبہ مجھے امیر لشکر کی طرف سے منع کر دیا گیا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۳۶۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں جیش الخبط کا واقعہ تفصیل سے آیا ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین سو سواروں کا لشکر بھیجا، ان کے امیر ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تھے، اور وہ قریش کے قافلے کی نگرانی کے لیے نکلے تھے۔ ساحل پر پندرہ دن تک ٹھہرے رہے اور شدید بھوک لگی، یہاں تک کہ انہوں نے ببول کے پتے کھائے۔ اسی وجہ سے اس لشکر کو جیش الخبط کہا گیا۔ پھر سمندر نے عنبر نامی ایک جانور ساحل پر ڈال دیا۔ انہوں نے اسے پندرہ دن کھایا اور اس کی چربی لگائی، جس سے بدن کی طاقت لوٹ آئی۔ حدیث میں اونٹ ذبح کرنے اور پھر سفر کے لیے انہیں بچانے کی بات بھی آئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سخت بھوک میں صحابہ نے صبر کیا اور موجود چیزوں سے گزارا کیا۔
- لشکر کے امیر نے ضرورت اور سفر دونوں کو دیکھ کر فیصلہ کیا۔
- سمندر سے ملنے والی عنبر مچھلی ان کے لیے رزق بنی۔
- اونٹوں کو مکمل ختم کرنے سے روکنا سفر کی ضرورت سمجھنے کی دلیل ہے۔
