صحیح بخاری حدیث ۴۳۶۸ - وفد عبدالقیس کو چار احکام اور چار ممانعتیں
وفد عبدالقیس کی حدیث: ایمان، نماز، زکوٰۃ اور رمضان کے روزے
صحیح بخاری : ۴۳۶۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۳۶۸
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : إِنَّ لِي جَرَّةً يُنْتَبَذُ لِي نَبِيذٌ فَأَشْرَبُهُ حُلْوًا فِي جَرٍّ ، إِنْ أَكْثَرْتُ مِنْهُ ، فَجَالَسْتُ الْقَوْمَ ، فَأَطَلْتُ الْجُلُوسَ خَشِيتُ أَنْ أَفْتَضِحَ ، فَقَالَ : قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " مَرْحَبًا بِالْقَوْمِ غَيْرَ خَزَايَا وَلَا النَّدَامَى " ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ مُضَرَ ، وَإِنَّا لَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي أَشْهُرِ الْحُرُمِ ، حَدِّثْنَا بِجُمَلٍ مِنَ الْأَمْرِ إِنْ عَمِلْنَا بِهِ دَخَلْنَا الْجَنَّةَ ، وَنَدْعُو بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا ، قَالَ : " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ : الْإِيمَانِ بِاللَّهِ ، هَلْ تَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ ؟ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَإِقَامُ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ ، وَأَنْ تُعْطُوا مِنَ الْمَغَانِمِ الْخُمُسَ ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ : مَا انْتُبِذَ فِي الدُّبَّاءِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالْمُزَفَّتِ " .
ابن عباس روایت:
میرے پاس ایک گھڑا ہے جس میں میرے لیے نبیذ یعنی کھجور کا شربت بنایا جاتا ہے۔ میں وہ میٹھے رہنے تک پیا کرتا ہوں۔ بعض وقت بہت پی لیتا ہوں اور لوگوں کے پاس دیر تک بیٹھا رہتا ہوں تو ڈرتا ہوں کہ کہیں فضیحت نہ ہو۔ (لوگ کہنے لگیں کہ یہ نشہ باز ہےاس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ قبیلہ عبدالقیس کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھے آئے نہ ذلیل ہوئے، نہ شرمندہ (خوشی سے مسلمان ہو گئے نہ ہوتے تو ذلت اور شرمندگی حاصل ہوتی) انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے اور آپ کے درمیان میں مشرکین کے قبائل پڑتے ہیں۔ اس لیے ہم آپ کی خدمت میں صرف حرمت والے مہینے ہی میں حاضر ہو سکتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں وہ احکام و ہدایات سنا دیں کہ اگر ہم ان پر عمل کرتے رہیں تو جنت میں داخل ہوں اور جو لوگ ہمارے ساتھ نہیں آ سکے ہیں انہیں بھی وہ ہدایات پہنچا دیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں۔ میں تمہیں حکم دیتا ہوں اللہ پر ایمان لانے کا، تمہیں معلوم ہے اللہ پر ایمان لانا کسے کہتے ہیں؟ اس کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، نماز قائم کرنے کا، زکٰوۃ دینے کا، رمضان کے روزے رکھنے اور مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ (بیت المال کو) ادا کرنے کا حکم دیتا ہوں اور میں تمہیں چار چیزوں سے روکتا ہوں یعنی کدو کے تونبے میں اور کریدی ہوئی لکڑی کے برتن میں اور سبز لاکھی برتن میں اور روغنی برتن میں نبیذ بھگونے سے منع کرتا ہوں۔
صحیح بخاری حدیث ۴۳۶۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں وفد عبدالقیس کا واقعہ ہے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ہمارے اور آپ کے درمیان مشرکین کے قبائل ہیں، اس لیے ہم صرف حرمت والے مہینوں میں آ سکتے ہیں۔ آپ ہمیں ایسے احکام بتا دیں جن پر عمل کر کے ہم جنت میں داخل ہوں اور اپنے پیچھے والوں کو بھی بتا دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چار باتوں کا حکم دیا: اللہ پر ایمان، اس بات کی گواہی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ دینا، رمضان کے روزے رکھنا اور مال غنیمت کا پانچواں حصہ ادا کرنا۔ ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا۔ اس حدیث میں ایمان کی بنیاد اور عملی عبادات ایک ساتھ بیان ہوئی ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دین سیکھ کر اپنے پیچھے رہ جانے والوں تک پہنچانا اچھا عمل ہے۔
- ایمان میں کلمہ، نماز، زکوٰۃ اور روزے جیسے اعمال شامل ہیں۔
- مال غنیمت میں خمس ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔
- ایسی چیزوں سے بچنے کا حکم دیا گیا جو نبیذ کے معاملے میں خرابی کا سبب بن سکتی تھیں۔
