صحیح بخاری حدیث ۴۳۶۹ - عبدالقیس کو دین کے بنیادی احکام
عبدالقیس کی حدیث: دین پر عمل اور دوسروں کو دعوت
صحیح بخاری : ۴۳۶۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۳۶۹
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا هَذَا الْحَيَّ مِنْ رَبِيعَةَ وَقَدْ حَالَتْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ ، فَلَسْنَا نَخْلُصُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي شَهْرٍ حَرَامٍ ، فَمُرْنَا بِأَشْيَاءَ نَأْخُذُ بِهَا وَنَدْعُو إِلَيْهَا مَنْ وَرَاءَنَا ، قَالَ : " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ : الْإِيمَانِ بِاللَّهِ ، شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَعَقَدَ وَاحِدَةً ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ، وَأَنْ تُؤَدُّوا لِلَّهِ خُمْسَ مَا غَنِمْتُمْ ، وَأَنْهَاكُم عَنْ : الدُّبَّاءِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالْمُزَفَّتِ " .
ابن عباس روایت:
جب قبیلہ عبدالقیس کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم قبیلہ ربیعہ کی ایک شاخ ہیں اور ہمارے اور آپ کے درمیان کفار مضر کے قبائل پڑتے ہیں۔ ہم آپ کی خدمت میں صرف حرمت والے مہینوں میں ہی حاضر ہو سکتے ہیں۔ اس لیے آپ چند ایسی باتیں بتلا دیجئیے کہ ہم بھی ان پر عمل کریں اور جو لوگ ہمارے ساتھ نہیں آ سکے ہیں، انہیں بھی اس کی دعوت دیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں (میں تمہیں حکم دیتا ہوں) اللہ پر ایمان لانے کا یعنی اس کی گواہی دینے کا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنی انگلی سے) ایک اشارہ کیا، اور نماز قائم کرنے کا، زکٰوۃ دینے کا اور اس کا کہ مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ (بیت المال کو) ادا کرتے رہنا اور میں تمہیں دباء، نقیر، مزفت اور حنتم کے برتنوں کے استعمال سے روکتا ہوں۔
صحیح بخاری حدیث ۴۳۶۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں قبیلہ عبدالقیس کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ قبیلہ ربیعہ کی شاخ ہیں اور کافروں کے قبائل ان کے راستے میں حائل ہیں، اس لیے وہ ہر وقت حاضر نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے درخواست کی کہ ہمیں ایسی باتیں بتا دیں جن پر ہم عمل کریں اور اپنے پیچھے رہنے والوں کو بھی دعوت دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اللہ پر ایمان، لا الہ الا اللہ کی گواہی، نماز قائم کرنے، زکوٰۃ دینے اور مال غنیمت کا خمس ادا کرنے کا حکم دیا۔ پھر دباء، نقیر، حنتم اور مزفت کے برتنوں سے منع فرمایا۔ اس حدیث میں دین سیکھنے، عمل کرنے اور آگے پہنچانے کا بہت سادہ اور عملی طریقہ بتایا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- علم لینے والا خود بھی عمل کرے اور دوسروں کو بھی بتائے۔
- ایمان کے ساتھ نماز اور زکوٰۃ کا حکم واضح طور پر آیا ہے۔
- مالی حق ادا کرنا دینی ذمہ داری میں شامل ہے۔
- جن چیزوں سے خرابی کا اندیشہ ہو، ان سے بچنے کی ہدایت دی گئی۔
