صحیح بخاری حدیث ۴۳۹۲ - قوم کے لیے ہدایت کی دعا
ہدایت کی دعا کی حدیث: دوس قبیلے کے لیے رحمت بھری دعا
صحیح بخاری : ۴۳۹۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۳۹۲
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ ذَكْوَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَ الطُّفَيْلُ بْنُ عَمْرٍو إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ دَوْسًا قَدْ هَلَكَتْ عَصَتْ وَأَبَتْ فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَأْتِ بِهِمْ " .
ابوہریرہ روایت:
طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ قبیلہ دوس تو تباہ ہوا۔ اس نے نافرمانی اور انکار کیا (اسلام قبول نہیں کیا) آپ اللہ سے ان کے لیے دعا کیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے اللہ! قبیلہ دوس کو ہدایت دے اور انہیں میرے یہاں لے آ۔“
صحیح بخاری حدیث ۴۳۹۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع ہدایت کی دعا ہے۔ طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا کہ قبیلہ دوس نے نافرمانی اور انکار کیا، آپ ان کے خلاف دعا کریں۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خلاف بددعا نہیں کی۔ آپ نے دعا فرمائی: اے اللہ! دوس کو ہدایت دے اور انہیں میرے پاس لے آ۔ یہ حدیث بہت سادہ مگر دل کو بدل دینے والا سبق دیتی ہے۔ جب کوئی قوم یا فرد دین سے دور ہو، تو پہلی خواہش یہ ہونی چاہیے کہ اللہ اسے ہدایت دے۔ حدیث میں نرمی، خیر خواہی اور دعوت کا مزاج صاف نظر آتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی سمجھ آتی ہے کہ غصے کے وقت زبان سے بددعا نکال دینا آسان ہوتا ہے، مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت کی دعا کو چنا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نافرمانی کرنے والوں کے لیے بھی ہدایت کی دعا کی جا سکتی ہے۔
- غصے میں بددعا کرنے کے بجائے خیر خواہی کا راستہ بہتر ہے۔
- دعوت میں نرمی اور امید کا پہلو اہم ہے۔
