صحیح بخاری حدیث ۴۴۰ - نوجوان ابن عمر کا مسجد نبوی میں سونا

مسجد نبوی میں سونا: ابن عمر رضی اللہ عنہما کا نوجوانی کا عمل

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۴۰

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ : حَدَّثَنِي نَافِعٌ قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ يَنَامُ وَهْوَ شَابٌّ أَعْزَبُ لاَ أَهْلَ لَهُ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عبداللہ بن عمر روایت:

´ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ نے عبیداللہ کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ کو نافع نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ` وہ اپنی نوجوانی میں جب کہ ان کے بیوی بچے نہیں تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں سویا کرتے تھے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۴۰ کا خلاصہ

یہ حدیث مسجد نبوی میں قیام یا سونے کے بارے میں ایک مختصر واقعہ بیان کرتی ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں نافع نے خبر دی کہ وہ اپنی جوانی میں، جب ان کے بیوی بچے نہیں تھے، نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی مسجد میں سویا کرتے تھے۔ حدیث میں صرف اتنی بات بیان ہوئی ہے، اس لیے اس سے بڑھ کر کوئی تفصیلی حکم خود سے شامل نہیں کیا گیا۔ اس واقعے سے کم از کم یہ معلوم ہوتا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما جیسے نوجوان صحابی کا مسجد نبوی سے گہرا تعلق تھا، اور ان کی مخصوص حالت یہ تھی کہ وہ غیر شادی شدہ تھے اور اہل و عیال نہیں تھے۔ یہ روایت مسجد میں سونا، مسجد نبوی میں قیام، اور اصحاب صفہ جیسے موضوعات کے قریب تلاش کی جاتی ہے، اگرچہ یہاں اصحاب صفہ کا ذکر نہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ابن عمر رضی اللہ عنہما جوانی میں مسجد نبوی میں سویا کرتے تھے۔
  • حدیث میں ان کے غیر شادی شدہ اور بے اہل ہونے کی حالت بھی بیان ہوئی ہے۔
  • مسجد نبوی سے صحابہ کا قریبی تعلق ظاہر ہوتا ہے۔
  • مختصر روایت سے زیادہ بات بڑھا کر نہیں کہنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں