صحیح بخاری حدیث ۴۴۱ - مسجد میں نرمی اور ابو تراب کا واقعہ
مسجد میں آرام اور ابو تراب والی حدیث
صحیح بخاری : ۴۴۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۴۱
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : " جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ فَاطِمَةَ فَلَمْ يَجِدْ عَلِيًّا فِي الْبَيْتِ ، فَقَالَ : أَيْنَ ابْنُ عَمِّكِ ؟ قَالَتْ : كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ شَيْءٌ فَغَاضَبَنِي فَخَرَجَ فَلَمْ يَقِلْ عِنْدِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِنْسَانٍ : انْظُرْ أَيْنَ هُوَ ، فَجَاءَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هُوَ فِي الْمَسْجِدِ رَاقِدٌ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ قَدْ سَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ شِقِّهِ وَأَصَابَهُ تُرَابٌ ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُهُ عَنْهُ ، وَيَقُولُ : قُمْ أَبَا تُرَابٍ ، قُمْ أَبَا تُرَابٍ " .
سہل بن سعد روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے دیکھا کہ علی رضی اللہ عنہ گھر میں موجود نہیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہارے چچا کے بیٹے کہاں ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ میرے اور ان کے درمیان کچھ ناگواری پیش آ گئی اور وہ مجھ پر خفا ہو کر کہیں باہر چلے گئے ہیں اور میرے یہاں قیلولہ بھی نہیں کیا ہے۔اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا کہ علی رضی اللہ عنہ کو تلاش کرو کہ کہاں ہیں؟ وہ آئے اور بتایا کہ مسجد میں سوئے ہوئے ہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ علی رضی اللہ عنہ لیٹے ہوئے تھے، چادر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو سے گر گئی تھی اور جسم پر مٹی لگ گئی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جسم سے دھول جھاڑ رہے تھے اور فرما رہے تھے اٹھو ابوتراب اٹھو۔
صحیح بخاری حدیث ۴۴۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی پیغام مسجد میں آرام اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی نرم مزاجی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ گھر سے ناراض ہو کر مسجد میں آ گئے اور وہیں سو گئے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے پہلے ان کا حال معلوم کیا، پھر خود مسجد تشریف لائے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے انہیں سخت الفاظ نہیں کہے، بلکہ ان کے جسم سے مٹی جھاڑی اور پیار سے فرمایا: اٹھو ابو تراب۔ اس واقعہ میں گھریلو ناگواری کے وقت غصے کو بڑھانے کے بجائے نرمی، تلاش حال، اور محبت سے بات کرنے کا انداز سامنے آتا ہے۔ مسجد کو بھی ایسی جگہ دکھایا گیا جہاں آدمی سکون سے بیٹھ یا آرام کر سکتا ہے، جب کوئی بے ادبی نہ ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گھریلو ناراضی میں نرم بات کرنا بہتر ہے۔
- کسی کے حال کی خبر لینا اچھے اخلاق میں شامل ہے۔
- مسجد میں آرام کیا جا سکتا ہے، جب ادب باقی رہے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا انداز محبت اور شفقت والا تھا۔
