صحیح بخاری حدیث ۴۴۲۹ - مغرب میں سورۃ المرسلات
مغرب کی نماز میں سورۃ المرسلات پڑھنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۴۴۲۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۴۲۹
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عنهما ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ ، قَالَتْ : " سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِ : وَالْمُرْسَلاتِ عُرْفًا سورة المرسلات آية 1 ، ثُمَّ مَا صَلَّى لَنَا بَعْدَهَا حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ " .
ام فضل بنت حارث روایت:
میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں «والمرسلات عرفا» کی قرآت کر رہے تھے، اس کے بعد پھر آپ نے ہمیں کبھی نماز نہیں پڑھائی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح قبض کر لی۔
صحیح بخاری حدیث ۴۴۲۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع نماز مغرب کی قراءت ہے۔ ام فضل بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو مغرب کی نماز میں سورۃ المرسلات پڑھتے سنا۔ پھر اس کے بعد نبی صلى الله عليه وسلم نے انہیں نماز نہیں پڑھائی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلى الله عليه وسلم کی روح قبض فرما لی۔ روایت میں خاص طور پر مغرب کی نماز، سورۃ المرسلات اور آخری ایام کا ذکر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ اور صحابیات نماز میں پڑھی جانے والی سورتوں کو بھی یاد رکھتے تھے۔ اس حدیث میں نماز کی کیفیت کے بارے میں ایک تاریخی اور دینی یاد محفوظ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے مغرب کی نماز میں سورۃ المرسلات کی قراءت فرمائی۔
- صحابیات بھی نماز کی قراءت کو غور سے سنتی اور یاد رکھتی تھیں۔
- نماز کے واقعات کو روایت کرنا دینی علم کی حفاظت کا حصہ ہے۔
- حدیث میں بیان شدہ بات کو اسی حد تک سمجھنا چاہیے جس حد تک متن میں ہے۔
