صحیح بخاری حدیث ۴۴۳۰ - سورۃ النصر کی سمجھ
سورۃ النصر کی تفسیر: ابن عباس رضی اللہ عنہما کی فہم
صحیح بخاری : ۴۴۳۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۴۳۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُدْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ : إِنَّ لَنَا أَبْنَاءً مِثْلَهُ ، فَقَالَ : إِنَّهُ مِنْ حَيْثُ تَعْلَمُ ، فَسَأَلَ عُمَرُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ : إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ سورة النصر آية 1 ، فَقَالَ : أَجَلُ ، رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْلَمَهُ إِيَّاهُ ، فَقَالَ : مَا أَعْلَمُ مِنْهَا إِلَّا مَا تَعْلَمُ " .
ابن عباس روایت:
عمر رضی اللہ عنہ آپ کو (مجالس میں) اپنے قریب بٹھاتے تھے۔ اس پر عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اعتراض کیا کہ اس جیسے تو ہمارے بچے ہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے یہ طرز عمل جس وجہ سے اختیار کیا، وہ آپ کو معلوم بھی ہے؟پھر عمر رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت (یعنی) «إذا جاء نصر الله والفتح» کے متعلق پوچھا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تھی، آپ کو اللہ تعالیٰ نے (آیت میں) اسی کی اطلاع دی ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جو تم نے بتایا وہی میں بھی اس آیت کے متعلق جانتا ہوں۔
صحیح بخاری حدیث ۴۴۳۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع فہم قرآن اور علم کی قدر ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنی مجلس میں قریب بٹھاتے تھے۔ بعض صحابہ نے کہا کہ ہمارے بچے بھی ان جیسے ہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ابن عباس سے سورۃ النصر کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے جواب دیا کہ یہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی وفات کی خبر تھی جو اللہ تعالیٰ نے آپ صلى الله عليه وسلم کو دی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں بھی اس آیت کے بارے میں یہی جانتا ہوں۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ ابن عباس کے علم اور سمجھ کو پہچانتے تھے، عمر کم ہونا علم کی کمی کی دلیل نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- علم اور سمجھ کی قدر عمر سے نہیں بلکہ فہم سے ہوتی ہے۔
- قرآن کی آیات میں کبھی گہرا اشارہ بھی ہوتا ہے جسے اہل علم سمجھتے ہیں۔
- بڑوں کی مجلس میں اہل علم نوجوان کو جگہ دینا قابل قدر عمل ہے۔
- سورۃ النصر کو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی صلى الله عليه وسلم کی وفات کی خبر سے جوڑا۔
