صحیح بخاری حدیث ۴۹۶۹ - سورۃ النصر کا اشارہ
سورۃ النصر کی حدیث: فتح کے بعد وفات کا اشارہ
صحیح بخاری : ۴۹۶۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۹۶۹
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عنه سألهم عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى : إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ سورة النصر آية 1 ، قَالُوا : فَتْحُ الْمَدَائِنِ وَالْقُصُورِ ، قَالَ : مَا تَقُولُ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ ؟ قَالَ : أَجَلٌ أَوْ مَثَلٌ ضُرِبَ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُعِيَتْ لَهُ نَفْسُهُ .
ابن عباس روایت:
عمر رضی اللہ عنہ نے بوڑھے بدری صحابہ سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد «إذا جاء نصر الله والفتح» یعنی ”جب اللہ کی مدد اور فتح آ پہنچی“ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ اس سے اشارہ بہت سے شہروں اور ملکوں کے فتح ہونے کی طرف ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابن عباس تمہارا کیا خیال ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ اس میں آپ کی وفات کی خبر یا ایک مثال ہے گویا آپ کی موت کی آپ کو خبر دی گئی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۹۶۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع سورۃ النصر کی تفسیر ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے بدری بزرگ صحابہ سے آیت إذا جاء نصر الله والفتح کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے اس کا تعلق شہروں اور ملکوں کی فتح سے بتایا۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے رائے پوچھی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اس میں نبی صلى الله عليه وسلم کی وفات کی خبر یا ایک مثال ہے، گویا آپ صلى الله عليه وسلم کو آپ کی موت کی اطلاع دی گئی۔ اس روایت میں سورۃ النصر کی حدیث، فتح مکہ کا اشارہ، نبی صلى الله عليه وسلم کی وفات اور قرآن فہمی کا موضوع آتا ہے۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ بعض آیات کے اندر ظاہری معنی کے ساتھ ایک گہرا اشارہ بھی ہو سکتا ہے، جسے اہل علم سمجھتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سورۃ النصر میں فتح کا ذکر آیا، مگر ابن عباسؓ نے اس میں وفات کا اشارہ بھی سمجھا۔
- صحابہ کرام قرآن کے معنی پر غور کرتے تھے۔
- علمی مجلس میں کم عمر عالم کی بات بھی وزن رکھ سکتی ہے۔
- قرآن کی سمجھ میں اہل علم کی رائے سے فائدہ لیا جاتا ہے۔
