صحیح بخاری حدیث ۴۹۶۸ - رکوع و سجدہ میں دعا

رکوع اور سجدہ کی دعا: سبحانک اللهم ربنا وبحمدک

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۹۶۸

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ : " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي يَتَأَوَّلُ الْقُرْآنَ " .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (سورۃ الفتح نازل ہونے کے بعد) اپنے رکوع اور سجدوں میں بکثرت یہ دعا پڑھتے تھے «سبحانك اللهم ربنا وبحمدك، اللهم اغفر لي» یعنی ”پاک ہے تیری ذات، اے اللہ! اے ہمارے رب! اور تیرے ہی لیے تعریف ہے، اے اللہ! میری مغفرت فرما دے۔“ قرآن مجید کے حکم مذکور پر اس طرح آپ عمل کرتے تھے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۹۶۸ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع رکوع و سجدہ کی دعا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم اپنے رکوع اور سجدوں میں کثرت سے یہ دعا پڑھتے تھے: سبحانک اللهم ربنا وبحمدک، اللهم اغفر لي۔ حدیث میں صاف بتایا گیا کہ آپ صلى الله عليه وسلم قرآن کے حکم پر عمل کرتے تھے۔ اس لیے اس روایت میں رکوع کی دعا، سجدے کی دعا، استغفار کی حدیث اور سورۃ النصر پر عمل سب ایک ساتھ سامنے آتے ہیں۔ یہاں اصل سبق یہ ہے کہ عبادت میں صرف ظاہری حرکت نہیں، بلکہ دل کی عاجزی، اللہ کی حمد اور مغفرت کی طلب بھی شامل ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم کی یہ دعا مختصر ہے مگر اس میں تسبیح، تعریف اور استغفار تینوں موجود ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رکوع اور سجدہ میں اللہ کی تسبیح اور حمد بیان کرنا نبی صلى الله عليه وسلم کا عمل ہے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم قرآن کے حکم کو اپنی عبادت میں نافذ فرماتے تھے۔
  • استغفار نماز کے اندر بھی اہم دعا کے طور پر آتا ہے۔
  • مختصر دعائیں بھی عبادت کو معنی خیز بناتی ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں