صحیح بخاری حدیث ۷۹۴ - رکوع اور سجدہ کی دعا

رکوع اور سجدہ کی دعا: سبحانك اللهم ربنا وبحمدك

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۹۴

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ ، سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي " .

عائشہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدہ میں «سبحانك اللهم ربنا وبحمدك، اللهم اغفر لي» پڑھا کرتے تھے۔

صحیح بخاری حدیث ۷۹۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدہ میں سبحانك اللهم ربنا وبحمدك، اللهم اغفر لي پڑھا کرتے تھے۔ یہ دعا مختصر ہے مگر اس میں دو بڑی باتیں جمع ہیں: اللہ کی پاکی اور تعریف، پھر اللہ سے مغفرت کی دعا۔ حدیث کا موضوع رکوع اور سجدہ کی دعا ہے، اس لیے اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ نماز کے ان مقامات میں اللہ کی تسبیح، حمد اور مغفرت مانگنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل میں تھا۔ نمازی جب رکوع یا سجدہ میں یہ دعا پڑھے تو اسے الفاظ کا مطلب بھی یاد رکھنا چاہیے کہ وہ اپنے رب کی پاکی بیان کر رہا ہے اور اس سے معافی مانگ رہا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رکوع اور سجدہ میں اللہ کی پاکی اور حمد بیان کرنا نبی صلى الله عليه وسلم کا عمل ہے۔
  • نماز میں مغفرت کی دعا کرنا اس حدیث سے ثابت ہے۔
  • مختصر دعا بھی بہت معنی رکھتی ہے۔
  • دعا کے الفاظ سمجھ کر پڑھنے سے نماز میں دھیان بڑھتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں