صحیح بخاری حدیث ۷۹۵ - سمع الله لمن حمده کے بعد حمد

سمع الله لمن حمده کے بعد اللهم ربنا ولك الحمد کہنے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۹۵

حَدَّثَنَا آدَمُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ قَالَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ يُكَبِّرُ ، وَإِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ ، قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب «سمع الله لمن حمده» کہتے تو اس کے بعد «اللهم ربنا ولك الحمد» بھی کہتے۔ اسی طرح جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے اور سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے۔ دونوں سجدوں سے کھڑے ہوتے وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم «الله أكبر» کہا کرتے تھے۔

صحیح بخاری حدیث ۷۹۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سمع الله لمن حمده کہتے تو اس کے بعد اللهم ربنا ولك الحمد بھی کہتے۔ اسی طرح جب آپ رکوع کرتے اور رکوع سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے، اور دونوں سجدوں سے کھڑے ہوتے وقت بھی اللہ اکبر کہتے۔ اس حدیث میں نماز کے اندر ذکر کے کئی مقامات بیان ہوئے ہیں۔ رکوع سے اٹھتے وقت اللہ کی حمد، اور نماز کی حرکتوں میں تکبیر، دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہیں۔ اس سے نمازی کو یہ سبق ملتا ہے کہ نماز کے الفاظ کو صحیح جگہ پر ادا کرے۔ نماز کی ہر حرکت اللہ کی یاد کے ساتھ ہونی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سمع الله لمن حمده کے بعد اللهم ربنا ولك الحمد کہنا نبی صلى الله عليه وسلم کا عمل ہے۔
  • رکوع میں جاتے اور سر اٹھاتے وقت تکبیر کہی جاتی ہے۔
  • دو سجدوں کے بعد کھڑے ہوتے وقت اللہ اکبر کہنا اس حدیث میں آیا ہے۔
  • نماز میں الفاظ اور حرکات دونوں کا درست خیال رکھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں