صحیح بخاری حدیث ۸۰۳ - نماز کی تکبیرات کا بیان
نماز کی تکبیرات: ہر رکن میں اللہ اکبر کہنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۸۰۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۸۰۳
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ " كَانَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ صَلَاةٍ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ وَغَيْرِهَا فِي رَمَضَانَ وَغَيْرِهِ ، فَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ ، ثُمَّ يَقُولُ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، ثُمَّ يَقُولُ : رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ ، ثُمَّ يَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الْجُلُوسِ فِي الِاثْنَتَيْنِ ، وَيَفْعَلُ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ حَتَّى يَفْرُغَ مِنَ الصَّلَاةِ ، ثُمَّ يَقُولُ حِينَ يَنْصَرِفُ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لَأَقْرَبُكُمْ شَبَهًا بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَتْ هَذِهِ لَصَلَاتَهُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا " .
ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن روایت:
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تمام نمازوں میں تکبیر کہا کرتے تھے۔ خواہ فرض ہوں یا نہ ہوں۔ رمضان کا مہینہ ہو یا کوئی اور مہینہ ہو، چنانچہ جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے، رکوع میں جاتے تو تکبیر کہتے۔ پھر «سمع الله لمن حمده» کہتے اور اس کے بعد «ربنا ولك الحمد» سجدہ سے پہلے، پھر جب سجدہ کے لیے جھکتے تو «الله أكبر» کہتے۔ پھر سجدہ سے سر اٹھاتے تو «الله أكبر» کہتے۔ پھر دوسرا سجدہ کرتے وقت «الله أكبر» کہتے۔ اسی طرح سجدہ سے سر اٹھاتے تو «الله أكبر» کہتے۔ دو رکعات کے بعد قعدہ اولیٰ کرنے کے بعد جب کھڑے ہوتے تب بھی تکبیر کہتے اور آپ ہر رکعت میں ایسا ہی کرتے یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہونے تک۔نماز سے فارغ ہونے کے بعد فرماتے کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں تم میں سب سے زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے مشابہ ہوں۔ اور آپ اسی طرح نماز پڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ دنیا سے تشریف لے گئے۔
صحیح بخاری حدیث ۸۰۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی نماز کا طریقہ بیان ہوا ہے۔ وہ فرض اور نفل، رمضان اور غیر رمضان، ہر نماز میں تکبیرات کہتے تھے۔ نماز شروع کرتے وقت تکبیر، رکوع میں جاتے وقت تکبیر، سجدہ میں جاتے اور سجدہ سے اٹھتے وقت تکبیر، پھر دو رکعات کے بعد کھڑے ہوتے وقت بھی تکبیر کہتے۔ رکوع سے اٹھتے ہوئے سمع الله لمن حمده کہتے اور سجدہ سے پہلے ربنا ولك الحمد کہتے۔ نماز کی تکبیرات، اللہ اکبر نماز میں کب کہنا ہے، اور نبی کی نماز کا طریقہ جیسے موضوعات اس حدیث میں صاف ملتے ہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ان کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے بہت زیادہ مشابہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز میں ایک رکن سے دوسرے رکن کی طرف جاتے وقت تکبیر کہی جاتی ہے۔
- رکوع سے اٹھتے وقت سمع الله لمن حمده اور ربنا ولك الحمد کا ذکر آیا ہے۔
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی نماز کے طریقے کو یاد رکھتے اور سکھاتے تھے۔
