صحیح بخاری حدیث ۷۸۸ - بائیس تکبیروں کی سنت
نماز میں بائیس تکبیریں: ابوالقاسم صلى الله عليه وسلم کی سنت
صحیح بخاری : ۷۸۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۸۸
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ : " صَلَّيْتُ خَلْفَ شَيْخٍ 0بِمَكَّةَ فَكَبَّرَ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً ، فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ : إِنَّهُ أَحْمَقُ ، فَقَالَ : ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ ، سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، وَقَالَ مُوسَى حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ .
عکرمہ روایت:
میں نے مکہ میں ایک بوڑھے کے پیچھے (ظہر کی) نماز پڑھی۔ انہوں نے (تمام نماز میں) بائیس تکبیریں کہیں۔ اس پر میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ یہ بوڑھا بالکل بے عقل معلوم ہوتا ہے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا تمہاری ماں تمہیں روئے یہ تو ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔اور موسیٰ بن اسماعیل نے یوں بھی بیان کیا کہ ہم سے ابان نے بیان کیا، کہ کہا ہم سے قتادہ نے، انہوں نے کہا کہ ہم سے عکرمہ نے یہ حدیث بیان کی۔
صحیح بخاری حدیث ۷۸۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں عکرمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے مکہ میں ایک بوڑھے کے پیچھے نماز پڑھی۔ اس شخص نے نماز میں بائیس تکبیریں کہیں۔ عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ یہ بوڑھا شاید بے عقل معلوم ہوتا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ یہ تو ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں تکبیرات کا ایک معروف طریقہ صحابہ کے علم میں تھا۔ کبھی انسان کم علمی کی وجہ سے سنت کو بھی عجیب سمجھ لیتا ہے۔ اس لیے نماز کے مسائل میں جلد فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ نماز میں تکبیرات سنت نبوی سے تعلق رکھتی ہیں، اس لیے انہیں دھیان سے سیکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز میں تکبیرات کو سنت سمجھ کر ادا کرنا چاہیے۔
- کسی نمازی کے عمل پر جلدی سے سخت رائے نہیں لگانی چاہیے۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم سنت کی پہچان کرواتے تھے۔
- نماز کا طریقہ علم والوں سے سیکھنا بہتر ہے۔
