صحیح بخاری حدیث ۴۹۶۷ - نماز میں تسبیح اور استغفار

سورۃ النصر کے بعد نماز میں استغفار کی دعا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۹۶۷

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " مَا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً بَعْدَ أَنْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ سورة النصر آية 1 إِلَّا يَقُولُ فِيهَا : " سُبْحَانَكَ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي " .

عائشہ روایت:

آیت إذا جاء نصر الله والفتح یعنی جب اللہ کی مدد اور فتح آپہنچی جب سے نازل ہوئی تھی تو رسول اللہ ﷺ نے کوئی نماز ایسی نہیں پڑھی جس میں آپ یہ دعا نہ کرتے ہوں سبحانک ربنا وبحمدک، اللهم اغفر لي. یعنی پاک ہے تیری ذات، اے اللہ ! اے ہمارے رب ! اور تیرے ہی لیے تعریف ہے۔ اے اللہ میری مغفرت فرما دے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۹۶۷ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع نماز میں دعا اور استغفار ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب سورۃ النصر کی آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کوئی نماز ایسی نہیں پڑھتے تھے جس میں یہ دعا نہ کہتے: سبحانک ربنا وبحمدک، اللهم اغفر لي۔ یعنی اے ہمارے رب! تو پاک ہے، تیری ہی تعریف ہے، اے اللہ! میری مغفرت فرما۔ اس حدیث میں نماز کی دعا، استغفار کی حدیث، سورۃ النصر کی دعا اور سبحانک ربنا وبحمدک کا ذکر ہے۔ بات بہت صاف ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے اللہ کی مدد اور فتح کے بعد بھی اللہ کی پاکی، تعریف اور مغفرت کی دعا کو لازم رکھا۔ یہ عاجزی اور بندگی کا خوبصورت انداز ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز میں اللہ کی پاکی اور حمد بیان کرنا نبی صلى الله عليه وسلم کا عمل تھا۔
  • فتح اور مدد کے بعد بھی بندے کو استغفار کرنا چاہیے۔
  • دعا کے الفاظ مختصر ہوں تو بھی بہت معنی رکھتے ہیں۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم قرآن کے حکم پر عمل کرتے ہوئے تسبیح اور استغفار کرتے تھے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں