صحیح بخاری حدیث ۴۴۳۱ - نبی صلى الله عليه وسلم کے سامنے نزاع نہیں

نبی صلى الله عليه وسلم کے سامنے نزاع نہ کرنے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۴۳۱

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : يَوْمُ الْخَمِيسِ ، وَمَا يَوْمُ الْخَمِيسِ اشْتَدَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ ، فَقَالَ : " ائْتُونِي أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ أَبَدًا ، فَتَنَازَعُوا وَلَا يَنْبَغِي عِنْدَ نَبِيٍّ تَنَازُعٌ " ، فَقَالُوا : مَا شَأْنُهُ أَهَجَرَ اسْتَفْهِمُوهُ ، فَذَهَبُوا يَرُدُّونَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " دَعُونِي ، فَالَّذِي أَنَا فِيهِ خَيْرٌ مِمَّا تَدْعُونِي إِلَيْهِ وَأَوْصَاهُمْ بِثَلَاثٍ ، قَالَ : أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ ، وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ ، وَسَكَتَ عَنِ الثَّالِثَةِ ، أَوْ قَالَ : فَنَسِيتُهَا .

سعید بن جبیر روایت:

ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جمعرات کے دن کا ذکر کیا اور فرمایا معلوم بھی ہے جمعرات کے دن کیا ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض میں تیزی پیدا ہوئی تھی۔ اس وقت آپ نے فرمایا کہ لاؤ، میں تمہارے لیے وصیت نامہ لکھ دوں کہ تم اس پر چلو گے تو اس کے بعد پھر تم کبھی صحیح راستے کو نہ چھوڑو گے لیکن یہ سن کر وہاں اختلاف پیدا ہو گیا، حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نزاع نہ ہونا چاہئیے۔بعض لوگوں نے کہا کہ کیا آپ شدت مرض کی وجہ سے بے معنی کلام فرما رہے ہیں؟ (جو آپ کی شان اقدس سے بعید ہے) پھر آپ سے بات سمجھنے کی کوشش کرو۔ پس آپ سے صحابہ پوچھنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ (یہاں شور و غل نہ کرو) میں جس کام میں مشغول ہوں، وہ اس سے بہتر ہے جس کے لیے تم کہہ رہے ہو۔ اس کے بعد آپ نے صحابہ کو تین چیزوں کی وصیت کی، فرمایا کہ مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکال دو۔ ایلچی (جو قبائل کے تمہارے پاس آئیں) ان کی اس طرح خاطر کیا کرنا جس طرح میں کرتا آیا ہوں اور تیسری بات ابن عباس نے یا سعید نے بیان نہیں کی یا سعید بن جبیر نے یا سلیمان نے کہا میں تیسری بات بھول گیا۔

صحیح بخاری حدیث ۴۴۳۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع ادب مجلس نبوی اور اختلاف سے بچنا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما جمعرات کے دن کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس دن رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے مرض میں شدت ہوئی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ لکھنے کا سامان لاؤ، میں تمہارے لیے ایسا نوشتہ لکھ دوں کہ اس کے بعد تم گمراہ نہ ہو۔ وہاں اختلاف ہو گیا، حالانکہ نبی صلى الله عليه وسلم کے سامنے نزاع مناسب نہیں تھا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ مجھے چھوڑ دو، میں جس حالت میں ہوں وہ اس سے بہتر ہے جس کی طرف تم مجھے بلا رہے ہو۔ اس کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم نے چند وصیتیں فرمائیں، جن میں مشرکین کو جزیرہ عرب سے نکالنا اور وفود کی خاطر کرنا شامل ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم کے سامنے شور اور نزاع مناسب نہیں تھا۔
  • دینی مجلس میں اختلاف کو ادب کے ساتھ سنبھالنا چاہیے۔
  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے آخری بیماری میں بھی امت کے معاملات کی فکر فرمائی۔
  • حدیث میں جو وصیتیں بیان ہوئیں انہیں اسی متن کے مطابق سمجھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں