صحیح بخاری حدیث ۱۱۴ - نبی کے پاس جھگڑا نہ کرنا

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اختلاف اور شور سے بچنے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۱۴

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَمَّا اشْتَدَّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ ، قَالَ : ائْتُونِي بِكِتَابٍ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَا تَضِلُّوا بَعْدَهُ ، قَالَ عُمَرُ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَلَبَهُ الْوَجَعُ وَعِنْدَنَا كِتَابُ اللَّهِ حَسْبُنَا ، فَاخْتَلَفُوا وَكَثُرَ اللَّغَطُ ، قَالَ : قُومُوا عَنِّي وَلَا يَنْبَغِي عِنْدِي التَّنَازُعُ ، فَخَرَجَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : إِنَّ الرَّزِيَّةَ كُلَّ الرَّزِيَّةِ مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ كِتَابِهِ " .

ابن عباس روایت:

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض میں شدت ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس سامان کتابت لاؤ تاکہ تمہارے لیے ایک تحریر لکھ دوں، تاکہ بعد میں تم گمراہ نہ ہو سکو، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے (لوگوں سے) کہا کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تکلیف کا غلبہ ہے اور ہمارے پاس اللہ کی کتاب قرآن موجود ہے جو ہمیں (ہدایت کے لیے) کافی ہے۔ اس پر لوگوں کی رائے مختلف ہو گئی اور شور و غل زیادہ ہونے لگا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس سے اٹھ کھڑے ہو، میرے پاس جھگڑنا ٹھیک نہیں، اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما یہ کہتے ہوئے نکل آئے کہ بیشک مصیبت بڑی سخت مصیبت ہے (وہ چیز جو) ہمارے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور آپ کی تحریر کے درمیان حائل ہو گئی۔

صحیح بخاری حدیث ۱۱۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری سخت ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس لکھنے کا سامان لاؤ، تاکہ میں تمہارے لیے ایسی تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم گمراہ نہ ہو۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر تکلیف کا غلبہ ہے اور ہمارے پاس اللہ کی کتاب کافی ہے۔ پھر لوگوں میں اختلاف ہوا اور شور بڑھ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس سے اٹھ جاؤ، میرے پاس جھگڑنا مناسب نہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما اس رکاوٹ کو بڑی مصیبت کہتے تھے۔ اس حدیث سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب، مجلس کے سکون اور اختلاف کے موقع پر احتیاط کا سبق ملتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں شور اور جھگڑا مناسب نہیں۔
  • دینی معاملے میں اختلاف ہو تو ادب اور سکون ضروری ہے۔
  • ابن عباس رضی اللہ عنہما اس واقعہ کو بہت بڑا نقصان سمجھتے تھے۔
  • قرآن کی اہمیت کا ذکر اس روایت میں صاف طور پر موجود ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں